تمہارے حسن کے جلوے بہم نہیں ہیں میاں

Idris Azad

تمہارے حسن کے جلوے بہم نہیں ہیں میاں

نہیں ہیں اب وہ تمہارے کرم نہیں ہیں میاں

رہ عدم کے مقابل نہیں مجال وجود

ستم تو یہ ہے کہ ہم ہیں عدم نہیں ہیں میاں

یہ مانتے ہیں کہ قطرہ ہیں ایک پانی کا

مگر وجود کے دریا میں ضم نہیں ہیں میاں

چلے بھی جائیں گے کاہے کی جلدیاں ہیں تمہیں

ابھی رکو ابھی ہم تازہ دم نہیں ہیں میاں

ہمیں نہ ڈھاؤ کہ مشکل سے ہم کھڑے ہوئے ہیں

ستم گزیدہ تو ہیں خود ستم نہیں ہیں میاں

ہزار بار اسی زندگی سے گزرے ہیں

تمہارے خضر سے کم عمر ہم نہیں ہیں میاں

یہاں کوئی کبھی واپس پلٹ نہیں سکتا

یہاں کسی کے بھی الٹے قدم نہیں ہیں میاں

حریم دل میں کوئی لا شریک ہے کہ نہیں

مگر یہ طے ہے وہ پہلے صنم نہیں ہیں میاں

اب اس جہاں میں ہمارا اگر نہیں ہے خدا

خدا کے ہم بھی خدا کی قسم نہیں ہے میاں

یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند

یہ روزگار کے غم ہیں یہ غم نہیں ہیں میاں