ہم بدلتے نہیں بدلتے ہیں
Idris Azadہم بدلتے نہیں بدلتے ہیں
اس لیے ہم سے لوگ جلتے ہیں
وقت کا کون انتظار کرے
چل زمانے کے ساتھ چلتے ہیں
غم نکلتے تو ہیں پہ گاہ بگاہ
آہ کے ڈر سے کم نکلتے ہیں
آپ ہی عمر کا خیال کریں
یہ تو ارمان ہیں مچلتے ہیں
تم نہ آؤ تو میری آنکھوں میں
پھول کھلتے نہیں ہیں کھلتے ہیں
چاند کے ساتھ ہم ابھرتے ہیں
لوگ سورج کے ساتھ ڈھلتے ہیں