وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہے
Idris Azadوفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہے
تو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہے
تمہاری بات نے دل کی گھٹا کو چھیڑ دیا
ہماری آنکھوں سے برسات ہونے والی ہے
یہ ایک ساتھ جو خاموش ہو گئے ہیں لوگ
ضرور کوئی بڑی بات ہونے والی ہے
ہر ایک شخص ہی تیشہ اٹھائے پھرتا ہے
بتوں کی شہر میں بہتات ہونے والی ہے
وہ اپنی آنکھوں میں آیات لکھ کے لایا ہے
اس اجنبی سے مجھے مات ہونے والی ہے
میں جانتا ہوں حقیقت سوانگ محشر کی
یہ دل لگی بھی مرے ساتھ ہونے والی ہے
وہ کار عشق میں بھی کامیاب ہو گیا ہے
اب اس کو لمبی حوالات ہونے والی ہے
ہمارے ضبط کی پختہ روی سے لگتا ہے
کچھ اور تلخیٔ اوقات ہونے والی ہے
سفر تو ہوگا مگر راستے نہیں ہوں گے
عجیب صورت حالات ہونے والی ہے