دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلا

Idris Azad

دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلا

سچ مرے منہ سے تو نکلا مگر آدھا نکلا

دہر میں جس کا شرر آگ سے آگے ہے کہیں

کیسی مٹی ہے یہ جس سے ترا بندہ نکلا

اس نے جاتے ہوئے بس اتنا کہا جاتا ہوں

میرے ہونٹوں سے فقط ہولے سے اچھا نکلا

دیکھ تو کیسے چھلک کر تری جانب لپکا

تیرے ہونٹوں کا تو یہ جام بھی پیاسا نکلا

اک حسیں نے مری تقدیر بدل ڈالی ہے

میں جسے چاند سمجھتا تھا ستارہ نکلا

تو نے دیکھا ہی نہیں ظلم کیا ہے مجھ پر

دل سے ایمان و یقیں سارے کا سارا نکلا

وہ عمارت سی گری تھی جو مرے سینے میں

اس کی بنیاد سے کہتے ہیں دفینہ نکلا

ایسا کیا تو نے کیا تھا کہ تری محفل سے

مر گیا مر گیا ہر شخص یہ کہتا نکلا

عشق پایندہ و رخشندہ وفا زندہ باد

آپؐ کو دیکھ کے بے ساختہ نعرہ نکلا

دیکھ تو رنگ بھی تصویر سے بچھڑے ہوئے ہیں

اور تجھ سے بھی تو اپنا یہی رشتہ نکلا