جب تجھے منبر یاقوت کٹہرا ہوا تھا

Idris Azad

جب تجھے منبر یاقوت کٹہرا ہوا تھا

میں سر عرش ترے سامنے ٹھہرا ہوا تھا

یوں ہی بے کار گئے سارے حکیموں کے علاج

زخم تفہیم خرافات سے گہرا ہوا تھا

تیری آواز قیامت میں بھی پہچان گیا

گو کہ میں صور سرافیل سے بہرا ہوا تھا

جو شجر سایۂ اشجار میں تھے جل گئے تھے

دھوپ سہہ سہہ کے مرا کھیت سنہرا ہوا تھا

آتش شوق تناسب میں اسی درجہ تھی تیز

جس قدر تیری ملاقات پہ پہرا ہوا تھا