میں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوں
Idris Azadمیں اپنے عشق میں پیہم زوال دیکھتا ہوں
جو تیرے چاہنے والوں کا حال دیکھتا ہوں
میں اس لیے بھی نہیں دیکھتا ہوں آئینہ
وہاں جو چہرہ ہے اس پر جلال دیکھتا ہوں
بدل گئی ہے سماعت مری بصارت سے
میں خواب سنتا ہوں لیکن خیال دیکھتا ہوں
کہا ہے تو نے کہ تیری مثال کوئی نہیں
مگر میں نور میں تیری مثال دیکھتا ہوں
میں چاہتا ہوں کہ خود خاک پر اتر آؤں
جب آسماں سے زمیں کا جمال دیکھتا ہوں
ہزار وسوسے دل میں ابھرنے لگتے ہیں جب
کسی غریب کے شانے پہ شال دیکھتا ہوں
میں ہونٹ دیکھتا ہوں پھول دیکھنے کے بعد
تو تیرے دست ہنر کا کمال دیکھتا ہوں
پھر اس کے بعد کوئی بات کر نہیں پاتا
جب اس فقیر کی آنکھوں کو لال دیکھتا ہوں
بصد خلوص نصیحت کو سنتا رہتا ہوں
پھر اپنے ہاتھ سے میں اپنا گال دیکھتا ہوں
جو درد سہتے ہیں لیکن خموش رہتے ہیں
اب ایسے لوگ بڑے خال خال دیکھتا ہوں