وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیا

Idris Azad

وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیا

بلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیا

میں خود اداس کھڑا تھا کٹے درخت کے پاس

پرندہ اڑ کے مرے ہاتھ پر اتر آیا

وہ مجھ سے توڑنے والا ہے پھر کوئی وعدہ

وہ پھر سیاسی بیانات پر اتر آیا

تری جو بات مرے دل کو ہاتھ ڈالتی ہے

میں کیوں گھما کے اسی بات پر اتر آیا

خدا کہاں ہے بس اتنا سوال تھا میرا

خدا کا بندہ مری ذات پر اتر آیا

وہ پہلے پہل تو مجھ سے ہی پیار کرتا تھا

پھر اس کے بعد کمالات پر اتر آیا

ذرا سی بات تھی اشکوں کو پی گیا ہوتا

غریب شخص تھا اوقات پر اتر آیا

گیا تو پھر مرے تکیے سے نوٹ نکلے ہیں

امیر ہوتے ہی خیرات پر اتر آیا

وہ لا جواب ہوا جب زبان سے خاموش

تو اس کا چہرہ سوالات پر اتر آیا