زمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہے
Idris Azadزمانہ آنکھ سے اوجھل مکان سامنے ہے
چھپی ہوئی ہے حقیقت گمان سامنے ہے
نگاہ الجھی ہوئی ہے وہیں مگر دل کے
کھلی زمین کھلا آسمان سامنے ہے
کھڑا ہے تان کے وہ ابروؤں کی شمشیریں
ادھر یہ جان مری ناتوان سامنے ہے
کروں گا روزے کا اظہار کس طرح تم پر
نماز کا تو جبیں پر نشان سامنے ہے
جھکاؤں سر تو زمیں کھینچتی ہے سوئے پتال
اٹھاؤں سر کو تو سارا جہان سامنے ہے
رکا ہوا وہ کوئی کاروان سامنے ہے
وہ چل کے ٹھہر گیا ہے چٹان سامنے ہے
مرے وجود کو جنبش کا اختیار نہیں
تمہاری آنکھوں کا آئینہ دان سامنے ہے
میں اشتہا کی اذیت میں ہوں نہ کھینچ مجھے
ابھی ہے طور بہت دور نان سامنے ہے