ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے ہیں

Idris Azad

ہمارے ہوتے ہوتے رہ گئے ہیں

قسم سے آپ اچھے رہ گئے ہیں

ہمارے پاس آ بیٹھے تھے یوں ہی

ہمارے پاس بیٹھے رہ گئے ہیں

تمہارے پاس میرے کچھ فسانے

وہیں صوفے پہ رکھے رہ گئے ہیں

یہ تیری کندہ کاری تھی کہ دل پہ

ترے الفاظ لکھے رہ گئے ہیں

مرے کھیتوں سے چڑیاں اڑ گئی ہیں

مرے کھیتوں میں کیڑے رہ گئے ہیں

بہت جی چاہتا تھا لوٹ جائیں

تری آنکھوں کے صدقے رہ گئے ہیں

کسے چاہیں تو پھر یہ عشق ہوگا

ہم اس مکتب میں بچے رہ گئے ہیں

میں ہفت افلاک سے آگے کھڑا ہوں

مرے گھر بار پیچھے رہ گئے ہیں

وہ سب آنکھیں چرا کر لے گیا ہے

حسیں بنتے سنورتے رہ گئے ہیں

بہت سیکھے ہیں مرنے کے طریقے

سلیقے زندگی کے رہ گئے ہیں