گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھا

Idris Azad

گزشتہ شب جو ہستی بر فراز دار تھی میں تھا

پھر اگلے دن جو سرخی شوکت اخبار تھی میں تھا

وہاں کچھ لوگ تھے الزام تھے باقی اندھیرا ہے

بس اتنا یاد ہے جلاد تھا تلوار تھی میں تھا

جہاں تصویر بنوانے کی خاطر لوگ آتے تھے

وہاں پس منظر تصویر جو دیوار تھی میں تھا

میں اپنا سر نہ کرتا پیش اجرت میں تو کیا کرتا

تمہاری بات تھی وہ بھی سر بازار تھی میں تھا

یہ ویراں سرخ سیارے انہیں دیکھوں تو لگتا ہے

تری دنیا میں جو چہکار تھی مہکار تھی میں تھا

خفا مت ہو مرے بدلے وہاں گلدان رکھ دینا

ترے کمرے کی چیزوں میں جو شے بے کار تھی میں تھا

تمہارے خط جو میں نے خود کو ڈالے تھے نہیں پہنچے

تو انجانے میں جس کے پیار سے دو چار تھی میں تھا

مرے کھلیان تھے دہقان تھے تقدیر تھی تو تھا

ترا زندان تھا زنجیر تھی جھنکار تھی میں تھا