خدا نے جب مجھ بشر کو اپنا خلف بنایا سوال یہ ہے
Idris Azadخدا نے جب مجھ بشر کو اپنا خلف بنایا سوال یہ ہے
تو میں نے کیوں آسمان سر پر نہیں اٹھایا سوال یہ ہے
حدود توڑے بغیر دنیا میں کوئی نغمہ امر نہیں ہے
مرے مغنی نے آٹھواں سر کہاں لگایا سوال یہ ہے
کٹے پھٹے ہم تو یوں ہی زاغ و زغن کے در پر پڑے ہوئے ہیں
ہمارے لاشوں کو پنڈتوں نے نہیں جلایا سوال یہ ہے
ورائے انساں کہیں تو ظلمت کا کوئی گٹھ جوڑ ہے خدا سے
قریب رہتا ہے اس قدر روشنی کے سایہ سوال یہ ہے
کہاں ہے وہ سلطنت وہ دنیا جہاں پہ تیری حکومتیں ہیں
کہیں تو ہوگی تری خدائی مرے خدایا سوال یہ ہے
سوال یہ تو نہیں جو تو نے کہا کہ اب ہم نہیں ملیں گے
سوال یہ ہے کہ کیوں تجھے یہ خیال آیا سوال یہ ہے
جو آتش رخ سے گلستاں کو گلاب ہو کر جلا رہا ہے
ہزار حیرت ہے تو نے یہ کیسا گل کھلایا سوال یہ ہے