مرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صف عدو سے نکل گئے
Idris Azadمرے واسطے وہ عدم ہوئے جو صف عدو سے نکل گئے
مری محفلوں سے نکل گئے مری گفتگو سے نکل گئے
وہ جو ایک پانی کی بوند تھی ترے بحر زہر میں ضم ہوئی
وہ جو قطرہ ہائے شراب تھے تری آب جو سے نکل گئے
جو مقام لا پہ کھڑے رہے صف سرخ رو میں کھڑے رہے
جو مقام لا سے نکل گئے صف سرخ رو سے نکل گئے
ترے رنگ و بو کو بھی دیکھتے نہ خیال تھا نہ مجال تھی
جو سکت ملی تجھے دیکھنے کی تو رنگ و بو سے نکل گئے
ہمیں صرف تیری تلاش تھی سفر آسماں کا کیا شروع
ابھی سنگ میل تھا ساتواں تری جستجو سے نکل گئے
تھے جو حکم سجدہ پہ معترض کہ شرار دہر کا ناز تھے
وہ فصیل وقت کو توڑ کر ترے کاخ و کو سے نکل گئے