یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیں

Idris Azad

یوں بظاہر تو پس پشت نہ ڈالو گے ہمیں

جانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیں

اپنا گھر بار ہے ابعاد مکانی سے بلند

وقت کو ڈھونڈنے نکلو گے تو پا لو گے ہمیں

اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو

تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں

تم نہیں آئے نہیں آئے مگر سوچا تھا

ہم اگر روٹھ بھی جائیں تو منا لو گے ہمیں

ہم ترے سامنے آئیں گے نگینہ بن کر

پہلے یہ وعدہ کرو پھر سے چرا لو گے ہمیں

تم بھی تھے بزم میں یہ سوچ کے ہم نے پی لی

ہم اگر مست ہوئے بھی تو سنبھالو گے ہمیں

قابل رحم بنے پھرتے ہیں اس آس پہ ہم

اپنے سینے سے کسی روز لگا لو گے ہمیں

ہم بڑی قیمتی مٹی سے بنائے گئے ہیں

خود کو ہم بیچنا چاہیں گے تو کیا لو گے ہمیں

ہم بھی کچھ اپنی تمنائیں سنائیں گے تمہیں

جب تم اپنی یہ تمنائیں سنا لو گے ہمیں

تم سے ہم دور چلے آئے ہیں صدیوں کے قریب

روشنی بن کے اگر آؤ تو آ لو گے ہمیں

ہم نہ بھولیں گے تمہیں جتنی بھی کوشش کر لو

بھولنے کے لیے ہر بار خیالو گے ہمیں