ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دل دارا

Idris Azad

ہم ایسے لوگ شیشے میں اتر جاتے ہیں دل دارا

چھنک کر ٹوٹ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں دل دارا

ہرا رہتا ہے دنیا میں ہر اک پودا محبت کا

جہاں تک شاخ جاتی ہے ثمر جاتے ہیں دل دارا

ہمارے دل کی چنگاری کو بس اک پھونک کافی ہے

زیادہ سانس لے کوئی تو ڈر جاتے ہیں دل دارا

بہت دن کہہ لیا ہم تم پہ مرتے تم پہ مرتے ہیں

بس اب کی بار یوں کرتے ہیں مر جاتے ہیں دل دارا

ہم اپنے چوکھٹے میں ہی کھڑے رہتے ہیں بے جنبش

ہمارے پاؤں سے رستے گزر جاتے ہیں دل دارا

جڑیں مضبوط رکھنے سے غرض ہے اپنے پودوں کو

یہ سر کٹوائیں تو الٹا سنور جاتے ہیں دل دارا

وہاں تک جستجو بے منت امید جاتی ہے

جہاں تک ساتھ سڑکوں کے شجر جاتے ہیں دل دار

بس اب کچھ اور تو لینا نہیں بازار دنیا سے

دکانیں بند ہونے کو ہیں گھر جاتے ہیں دل دارا