نکھر سنور کر کسی کا جوبن پھبن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے

Pandit Tribhuvannath Zutshi Zar Dehlvi (b. 1956)

نکھر سنور کر کسی کا جوبن پھبن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے

جوانی انگڑائی لے رہی ہے شباب کروٹ بدل رہا ہے

خلا ملا ہو کے غیر سے کوئی مونگ چھاتی پہ دل رہا ہے

کسی کے ارمان بجھ رہے ہیں کسی کا ارماں نکل رہا ہے

تنی بھنویں ہیں کھنچی ہے چتون کڑے ہیں تیور جبیں پہ ہے بل

نہ جانے کس پر گرے گی بجلی کہ شعلہ خنجر اگل رہا ہے