غم دنیا کسی کی یاد حسرت موت کی یارو

Pandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)

غم دنیا کسی کی یاد حسرت موت کی یارو

انہیں دو چار پر ہے اب مدار زندگی یارو

خوشامد جی حضوری مصلحت کوشی غرض مندی

یہی ہے زندگی تو پھر ہماری بندگی یارو

کسی کی چاہ میں جیتے کسی کی چاہ میں مرتے

ہمارا بھی کوئی ہوتا یہ حسرت ہی رہی یارو

تمہارے ساتھ رہ کر بھی ریا کاری نہیں آئی

تمہاری کیا خطا اس میں مری بد قسمتی یارو

وہ جن کی دوستی پر آج اتراتے ہو تم اتنا

کبھی اپنی بھی ان لوگوں سے رسم و راہ تھی یارو

کہاں تک تم فریب دوستی کھانے سے روکو گے

سنبھل جائے گا خود ہی ٹھوکریں کھا کر کوئی یارو

نہ جینا اختیاری ہے نہ مرنا اختیاری ہے

خدا جانے سزا ہے زندگی کس جرم کی یارو

تمہاری ہی کرم فرمائیوں کا فیض ہے ورنہ

ہمیں اپنے پرائے کی کہاں پہچان تھی یارو

اسی کو آگہی کہتے ہیں اس دور سیاست میں

جہاں تک ہو سکے ہنستے رہو جھوٹی ہنسی یارو

یہ آہ و زاریاں کیسی یہ نوحہ خوانیاں کیسی

اگر جینا نہیں آتا تو کر لو خودکشی یارو

ہم اتنا جانتے ہیں عاصیؔ گستاخ کی بابت

بڑا خاموش رہتا تھا کبھی یہ آدمی یارو