مجھے مٹاتا رہا ہے یہ آسمان بہت
Badiuzzaman Khawar (1938–1990)مجھے مٹاتا رہا ہے یہ آسمان بہت
مگر زمیں پہ ہیں اب بھی مرے نشان بہت
ہے لطف کچھ تو ہے میرے جدید لہجے میں
قدیم ورنہ ہے میری بھی داستان بہت
تلاش ہو بھی تو کیا سایۂ شجر کی مجھے
مرے لیے ہے یہ سورج کا سائبان بہت
اب آگے ان کے دلوں میں ہے کیا خدا جانے
نظر تو آتے ہیں یہ لوگ مہربان بہت
عجب نہیں کہ میں دریا نہ پار کر پاؤں
شکستہ ہے مری کشتی کا بادبان بہت
بہائے پیار نے چشمے ہزارہا لیکن
ہے سخت اب بھی ترے درد کی چٹان بہت
پتا نہیں یہ مجھے آج کل ہوا کیا ہے
میں اپنی ذات سے خاورؔ ہوں بد گمان بہت