Poetry
Poet
Meter
- رخصت ہوتے وقتاس نے کچھ نہیں کہاNida Fazli (1938–2016)
- ضروری کاغذوں کی فائلوں سےبے ضروریNida Fazli (1938–2016)
- کل راتوہ تھکا ہواNida Fazli (1938–2016)
- گوٹے والیلال اوڑھنیNida Fazli (1938–2016)
- مدتیں بیت گئیںتم نہیں آئیں اب تکNida Fazli (1938–2016)
- مرے کرتے کی بوڑھی جیب سے کلتمہاری یاد!Nida Fazli (1938–2016)
- مسجد کا گنبد سونا ہےمندر کی گھنٹی خاموشNida Fazli (1938–2016)
- مشین چل رہی ہیںنیلے پیلے لال لوہے کی مشینوں میںNida Fazli (1938–2016)
- نظم بہت آسان تھی پہلےگھر کے آگےNida Fazli (1938–2016)
- نہ جانے کون وہ بہروپیا ہےجو ہر شبNida Fazli (1938–2016)
- نیلی پیلی ہری گلابیمیں نے سب رنگین نقابیںNida Fazli (1938–2016)
- وہ طوائفکئی مردوں کو پہچانتی ہےNida Fazli (1938–2016)
- وہ کسی ایک مرد کے ساتھزیادہ دن نہیں رہ سکتیNida Fazli (1938–2016)
- ہر لڑکی کےتکیے کے نیچےNida Fazli (1938–2016)
- ہم سبایک اتفاق کےNida Fazli (1938–2016)
- یہ فاصلہجو تمہارے اور میرے درمیاں ہےNida Fazli (1938–2016)
- بدلا نہ اپنے آپ کو جو تھے وہی رہےملتے رہے سبھی سے مگر اجنبی رہےNida Fazli (1938–2016)
- تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھاتم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئےNida Fazli (1938–2016)
- جو دیکھتی ہیں نگاہیں وہی نہیں سب کچھیہ احتیاط بھی اپنے بیان میں رکھاNida Fazli (1938–2016)
- دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہدل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئےNida Fazli (1938–2016)
- رشتوں کا اعتبار وفاؤں کا انتظارہم بھی چراغ لے کے ہواؤں میں آئے ہیںNida Fazli (1938–2016)
- سفر کو جب بھی کسی داستان میں رکھناقدم یقین میں منزل گمان میں رکھناNida Fazli (1938–2016)
- غم ہے آوارہ اکیلے میں بھٹک جاتا ہےجس جگہ رہئے وہاں ملتے ملاتے رہئےNida Fazli (1938–2016)
- ممکن ہے سفر ہو آساں اب ساتھ بھی چل کر دیکھیںکچھ تم بھی بدل کر دیکھو کچھ ہم بھی بدل کر دیکھیںNida Fazli (1938–2016)
- وہ ایک خواب جو چہرہ کبھی نہیں بنتابنا کے چاند اسے آسمان میں رکھناNida Fazli (1938–2016)
- وہی ہمیشہ کا عالم ہے کیا کیا جائےجہاں سے دیکھیے کچھ کم ہے کیا کیا جائےNida Fazli (1938–2016)
- آپ ناحق ملال کرتے ہیںمفت جی کو نڈھال کرتے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- اٹھایا ہی نہیں جاتا جو بار زندگی ہم سےکنارہ کر چکی شاید کسی کی یاد بھی ہم سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- اس طرح دل کو بے آسرا چھوڑ کرہم کہاں جائیں در آپ کا چھوڑ کرPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- اس طرح کے لطف سے کوئی کہاں تک شاد ہولطف کے پردے میں جب بیداد ہی بیداد ہوPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- امتیاز بیش و کم سے دور ہےدل محبت کے نشے میں چور ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- اور مشکل یہ آ پڑی ہم پرطنز کرتے ہیں آپ بھی ہم پرPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- بھلا چاہے گا کوئی کیا کسی کاہو دشمن آدمی جب آدمی کاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- بیٹھے ہو سر راہ گزر کیوں نہیں جاتےتم لوگ تو گھر والے ہو گھر کیوں نہیں جاتےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- بے حال سے ہم کیوں رہتے ہیں کیوں چاک ہے دامن کیا کہیےیہ جوگ لیا ہے برسوں سے ہم نے کس کارن کیا کہیےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- پھر پریشاں حال ہے قلب و جگر کیا کیجئےاب علاج گردش شام و سحر کیا کیجئےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- پئے جاتا ہوں ساقی کی نظر سےمجھے کیا گردش شام و سحر سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- تلخیٔ ایام رہن جام کیبادہ خانے میں بسر ہر شام کیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- تم کو چاہا تم کو پوجاکیا یہ میرا پاگل پن تھاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- حاصل ہمیں بھی قربتیں تھی آپ کی کبھییعنی ہمیں بھی راس تھی یہ زندگی کبھیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- خواب جنت کے ہیں بے محل دوستوکچھ بھی ہوتا نہیں بے عمل دوستوPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- درد والے ہو تو پھر ایسا کروساتھ کچھ ہمدرد بھی رکھا کروPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- دل لگا بیٹھا ہوں اس عیار سےجس کو نفرت ہے وفا سے پیار سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ذرا سا آدمی ہوںبلا کا آدمی ہوںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- رات اچھا لگاچاند تم سا لگاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- زمانے بھر میں بہت معتبر اجالا ہےیہ دیکھنا ہے مگر کس کے گھر اجالا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- زندگانی جب ہمیں راس آئے گیدیکھ لینا موت بھی آ جائے گیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- سر پہ آئی جو آفت وہ ٹل ہی گئیزندگی رنج و غم سے نکل ہی گئیPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- صبح دم کا مزا نہیں لیتےلوگ تازہ ہوا نہیں لیتےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- غافل ہوں تری یاد سے ایسا تو نہیں ہےہر وقت مرے دل میں تری یاد مکیں ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)