اپنی مرضی سے کھل نہیں سکتے

Badiuzzaman Khawar (1938–1990)

اپنی مرضی سے کھل نہیں سکتے

اپنی مرضی سے ہل نہیں سکتے

جب اگاتا ہے کوئی

اگتے ہیں

جب بڑھاتا ہے کوئی

بڑھتے ہیں

جب گراتا ہے کوئی

گرتے ہیں

کون آقا ہے کون مالک ہے

کچھ نہیں ہے پتا درختوں کو

پھر بھی جیسے کسی کی طاعت میں

مل رہا ہے مزا درختوں کو

کیا پتا کیوں عزیز لگتی ہے

زندگی کی سزا درختوں کو