کمی آنے نہ پائے اے فلک کچھ جور پیہم میں

Pandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)

کمی آنے نہ پائے اے فلک کچھ جور پیہم میں

بہت ہے طاقت برداشت غم آج بھی ہم میں

کمی آئی ہے جب سے تیرے میرے ربط باہم میں

بھٹک کر رہ گئی ہے زندگی تاریکیٔ غم میں

ہوئی ہیں انجمن میں جب بھی اس کافر سے چار آنکھیں

کہی ہے داستان غم زبان چشم پر نم میں

اٹھا ہی چاہتا ہے اب جنازہ آرزوؤں کا

بجھا ہی چاہتی ہے شام ہستی اب کوئی دم میں

یہی لے دے کے اب تو رہ گیا ہے اپنا سرمایہ

جو آنسو دیکھتے ہیں آپ میری چشم پر نم میں

نہ وہ میرے نہ دل میرا نہ ادنیٰ سی خوشی میری

یہ میرا حوصلہ ہے جی رہا ہوں ایسے عالم میں

اگر اے آسماں آہ و فغاں پہ ہم اتر آئیں

بدل جائے گی تیری ساری دنیا بزم ماتم میں

کہیں نام و نشاں تک مل نہ پائے گا مسرت کا

کہاں تک ساتھ میرے دے سکیں گے جادۂ غم میں

حیات مختصر کی کیا کہیں روداد ہم تجھ سے

خلاصہ یہ کہ گزری ہے پریشانی کے عالم میں