سحر کے ساتھ وہ خاموش ہو چکا ہے مگر

Badiuzzaman Khawar (1938–1990)

سحر کے ساتھ وہ خاموش ہو چکا ہے مگر

شراب نور مسلسل پلا رہا ٔہے مجھے

مری نگاہوں سے روپوش ہو چکا ہے مگر

قدم قدم پہ وہ صورت دکھا رہا ہے مجھے

مکان میں نظر آتا نہیں کہیں بھی مگر

میں اس کو ڈھونڈوں تو بے انتہا محبت سے

مجھے وہ دوڑ کر اپنے گلے لگاتا ہے

پلنگ اس کا ہے خالی مگر اسی پر وہ

میں رو پڑوں تو مجھے پیار سے بٹھاتا ہے

میں غم کی دھوپ میں جلنے لگوں تو رہ رہ کر

مری جبیں پہ وہ شفقت سے ہاتھ رکھتا ہے

وہ میرے پاس مرے ساتھ ہر گھڑی ہے مگر

جو لوگ قبر میں اس کو اتار آئے ہیں

ہیں سوگوار دلاؤں انہیں یقیں کیونکر

مرا نہیں ہے مرا باپ اب بھی زندہ ہے