وہ تیرے التفات کا موسم گزر گیا

Ghani Ahmad Ghani (b. 1937)

وہ تیرے التفات کا موسم گزر گیا

اچھا ہوا یہ بوجھ بھی سر سے اتر گیا

تھا منحصر خرابی دل پر سکون زیست

بگڑے ہم اس طرح کہ زمانہ سنور گیا

اب چشم آرزو میں کوئی داستاں نہیں

افسانۂ حیات کوئی ختم کر گیا

جیسے نسیم چھو کے گزر جائے کوئی پھول

تیرا خیال یوں مرے دل سے گزر گیا

اے خون آرزو ترا احسان کیا کہوں

تو کشت آرزو مری شاداب کر گیا

بزم وفا میں وہ ہمہ تن گوش تھے مگر

ہونٹوں تک آ کے حرف تمنا کدھر گیا

عمر بہار اور غنیؔ اتنی مختصر

جھپکی جو آنکھ قافلۂ دل گزر گیا

کیا پوچھتے ہو تم خلش دل کا ماجرا

دامان آرزو کوئی کانٹوں سے بھر گیا