نفس آرزو ہے شعلہ طراز

Ghani Ahmad Ghani (b. 1937)

نفس آرزو ہے شعلہ طراز

سوز احساس تیری عمر دراز

خوش ہیں کھا کر فریب عشوۂ ناز

کس قدر سادہ دل ہیں اہل نیاز

بن گئی گردش جہاں کی حریف

حسن کی اک نگاہ فتنہ طراز

نام سنتے ہی آشیانے کا

لوٹ آئی ہے طاقت پرواز

خلش دل بڑھا گئی کچھ اور

آپ کی چشم التفات نواز

کہیں یہ ان کی رہگزر تو نہیں

جھک پڑی ہے غنیؔ جبین نیاز

ایک ہی ساز کے ہیں دو نغمے

میری خاموشی آپ کی آواز