Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پہلو کے آر پار گزرتا ہوا سا ہواک شخص آئنے میں اترتا ہوا سا ہوAdil Mansuri (1936–2008)
  2. پھر کسی خواب کے پردے سے پکارا جاؤںپھر کسی یاد کی تلوار سے مارا جاؤںAdil Mansuri (1936–2008)
  3. پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سےجائیں کہاں نکل کے خیالوں کے جال سےAdil Mansuri (1936–2008)
  4. جلنے لگے خلا میں ہواؤں کے نقش پاسورج کا ہاتھ شام کی گردن پہ جا پڑاAdil Mansuri (1936–2008)
  5. جو چیز تھی کمرے میں وہ بے ربط پڑی تھیتنہائیٔ شب بند قبا کھول رہی تھیAdil Mansuri (1936–2008)
  6. جیتا ہے صرف تیرے لیے کون مر کے دیکھاک روز میری جان یہ حرکت بھی کر کے دیکھAdil Mansuri (1936–2008)
  7. چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کواور اس کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کروAdil Mansuri (1936–2008)
  8. چہرے پہ چمچاتی ہوئی دھوپ مر گئیسورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھر شام ڈر گئیAdil Mansuri (1936–2008)
  9. حج کا سفر ہے اس میں کوئی ساتھ بھی تو ہوپردہ نشیں سے اپنی ملاقات بھی تو ہوAdil Mansuri (1936–2008)
  10. دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کاجھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیاAdil Mansuri (1936–2008)
  11. دور افق کے پار سے آواز کے پروردگارصدیوں سوئی خامشی کو سامنے آ کر پکارAdil Mansuri (1936–2008)
  12. زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گااندھیروں کے اندر اتر جاؤں گاAdil Mansuri (1936–2008)
  13. سانس کی آنچ ذرا تیز کروکانچ کا جسم پگھل جانے دوAdil Mansuri (1936–2008)
  14. سڑکوں پر سورج اتراسایہ سایہ ٹوٹ گیاAdil Mansuri (1936–2008)
  15. سوئے ہوئے پلنگ کے سائے جگا گیاکھڑکی کھلی تو آسماں کمرے میں آ گیاAdil Mansuri (1936–2008)
  16. عاشق تھے شہر میں جو پرانے شراب کےہیں ان کے دل میں وسوسے اب احتساب کےAdil Mansuri (1936–2008)
  17. کون تھا وہ خواب کے ملبوس میں لپٹا ہوارات کے گنبد سے ٹکرا کر پلٹ آئی صداAdil Mansuri (1936–2008)
  18. گانٹھی ہے اس نے دوستی اک پیش امام سےعادلؔ اٹھا لو ہاتھ دعا و سلام سےAdil Mansuri (1936–2008)
  19. گھوم رہا تھا ایک شخص رات کے خارزار میںاس کا لہو بھی مر گیا صبح کے انتظار میںAdil Mansuri (1936–2008)
  20. مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوںیہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوںAdil Mansuri (1936–2008)
  21. نہ کوئی روک سکا خواب کے سفیروں کواداس کر گئے نیندوں کے راہگیروں کوAdil Mansuri (1936–2008)
  22. وسعت دامن صحرا دیکھوںاپنی آواز کو پھیلا دیکھوںAdil Mansuri (1936–2008)
  23. وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہراندھیرے کے پہلو میں سنسان گھرAdil Mansuri (1936–2008)
  24. وہ تم تک کیسے آتاجسم سے بھاری سایہ تھاAdil Mansuri (1936–2008)
  25. وہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہے سنوخدا کے لیے کوئی تو روک لوAdil Mansuri (1936–2008)
  26. ہاتھ میں آفتاب پگھلا کررات بھر روشنی سے کھیلا کرAdil Mansuri (1936–2008)
  27. ہر خواب کالی رات کے سانچے میں ڈھال کریہ کون چھپ گیا ہے ستارے اچھال کرAdil Mansuri (1936–2008)
  28. ہوا ختم دریا تو صحرا لگاسفر کا تسلسل کہاں جا لگاAdil Mansuri (1936–2008)
  29. ہونے کو یوں تو شہر میں اپنا مکان تھانفرت کا ریگزار مگر درمیان تھاAdil Mansuri (1936–2008)
  30. یہ پھیلتی شکستگی احساس کی طرفدریا رواں دواں ہیں مری پیاس کی طرفAdil Mansuri (1936–2008)
  31. اب نہ زنجیر کھڑکنے کی صدا آئے گیزنداں مہکے گا نہ اب باد صبا آئے گیAdil Mansuri (1936–2008)
  32. الف لفظ و معانی سے مبراالف تنہائی کا روشن ہیولیٰAdil Mansuri (1936–2008)
  33. بند مٹھی میں ہونٹ کے ٹکڑےاور ٹکڑوں میں ہانپتے سورجAdil Mansuri (1936–2008)
  34. پتھر پر تصویر بنا کرپانی میں چھپ جاتا ہےAdil Mansuri (1936–2008)
  35. پتھروں پر جمی ہوئی نظریںگاڑھا سیال لمحہ لمحہ رواںAdil Mansuri (1936–2008)
  36. تبوک آواز دے رہا ہےزمیں سے اب جو چپک رہے گاAdil Mansuri (1936–2008)
  37. تنگ تاریک گلی میں کتامیلا میلا سا تھرتھراتا چاندAdil Mansuri (1936–2008)
  38. چاند کے پیٹ میں حمل مچھلیمچھلی کے منہ میں کل وجود و عدمAdil Mansuri (1936–2008)
  39. خوں پتھر پہ سرک آیاگہرا نیلا رنگ ہوا میں ڈوب گیاAdil Mansuri (1936–2008)
  40. درد تنہائی کی پسلی سے نکل کر آیارات کا ہاتھ لگا اور ہوا ٹوٹ گئیAdil Mansuri (1936–2008)
  41. دو کالے تکونکالے وزن دار تکونAdil Mansuri (1936–2008)
  42. رات اور دن کے درمیاں کوئیریڑھ کی ہڈی توڑ کر نکلاAdil Mansuri (1936–2008)
  43. رات داڑھی کے اندھیرے سے تکلف برتےعرش کے سامنے رسوائی کی گردن نہ اٹھےAdil Mansuri (1936–2008)
  44. راہ نہ دیکھو سورج کیکل میں نے اپنے ہاتھوں سےAdil Mansuri (1936–2008)
  45. ساتویں پسلی میں پیلی چاندنیاور تاروں کی اداسی کا جمودAdil Mansuri (1936–2008)
  46. سائے کی پسلی سے نکلا ہے جسم ترابوسوں کا گیلا پن لفظوں کے ہونٹوں پرAdil Mansuri (1936–2008)
  47. سفید رات سے منسوب ہے لہو کا زوالصبا کے شانوں پہ بکھرے سنہری دھوپ کے بالAdil Mansuri (1936–2008)
  48. سیاہ چاند کے ٹکڑوں کو میں چبا جاؤںسفید سایوں کے چہروں سے تیرگی ٹپکےAdil Mansuri (1936–2008)
  49. سیاہ سایوں کی تشنگی میںاداس لمحوں کو ساتھ رکھوAdil Mansuri (1936–2008)
  50. عینک کے شیشے پر سرکتی چیونٹیآگے کے پاؤں اوپر ہوا میں اٹھا کرAdil Mansuri (1936–2008)