Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. کٹ گیا دن ڈھلی شام شب آ گئیپھر زمیں اپنے محور سے ہٹنے لگیShahryar (1936–2012)
  2. کھردرے جسم کے نشیب و فرازجاننے کی ہوس میں جس کی زباںShahryar (1936–2012)
  3. کیا تم کو یہ پتہ ہےاے ناسمجھ رفیقوShahryar (1936–2012)
  4. کیوں ملال ہے اتناہار جیت میں تم کوShahryar (1936–2012)
  5. لو تیسواں سال بھی بیت گیالو بال روپہلی ہونے لگےShahryar (1936–2012)
  6. مائل بہ کرم ہیں راتیںآنکھوں سے کہو اب مانگیںShahryar (1936–2012)
  7. مہیب لمبے گھنے پیڑوں کی ہری شاخیںکبھی کبھی کوئی اشلوک گنگناتی تھیںShahryar (1936–2012)
  8. میرے لیے رات نےآج فراہم کیاShahryar (1936–2012)
  9. میں کورے کاغذ پر لکھوں پھر ایک کالی نظمالکھ جگاتے سناٹوں سے پھر سے سجاؤں بزمShahryar (1936–2012)
  10. نغمگی آرزو کی بکھری ہےرات شرما رہی ہے اپنے سےShahryar (1936–2012)
  11. وہ اندھیری رات کی چاپ تھیجو گزر گئیShahryar (1936–2012)
  12. وہ جو آسماں پہ ستارہ ہےاسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوShahryar (1936–2012)
  13. وہ دور بلند پہاڑوں پرملبوس فرشتوں کا پہنےShahryar (1936–2012)
  14. یہاں کیا ہے برہنہ تیرگی ہےخلا ہے آہٹیں ہیں تشنگی ہےShahryar (1936–2012)
  15. یہ بات روز ازل سے طے ہےزمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گیShahryar (1936–2012)
  16. ایک آہٹ ابھی دروازے پہ لہرائی تھیایک سرگوشی ابھی کانوں سے ٹکرائی تھیShahryar (1936–2012)
  17. بارشیں پھر زمینوں سے ناراض ہیںاور سمندر سبھی خشک ہیںShahryar (1936–2012)
  18. بہار اور خزاں موت اور زندگی کے منظم مناظر سے آگے بھیکچھ ایسے منظر ہیںShahryar (1936–2012)
  19. پھر تری تتلی نما صورت مجھے یاد آ گئیمجھ کو وہ لمحہ ابھی بھولا نہیںShahryar (1936–2012)
  20. زندگی یہ ترا احسان بہت ہے مجھ پراعظمیؔ زیست ہے ہر موڑ پہ جو ساتھ مرےShahryar (1936–2012)
  21. نکیلے ناخنوں سے اپنی قبریں کھودتے جاؤتھکن سے چور چہروں پرShahryar (1936–2012)
  22. نیند کی سوئی ہوئی خاموش گلیوں کو جگاتےگنگناتےShahryar (1936–2012)
  23. ہوا کا تعاقب کبھی چاند کی چاندنی کو پکڑنے کی خواہشکبھی صبح کے ہونٹ چھونے کی حسرتShahryar (1936–2012)
  24. ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہےدیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہےShahryar (1936–2012)
  25. بدی بھری یہ بوریاںنہ جانے کون موڑ تکShahryar (1936–2012)
  26. دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میںمریضوں کے انبوہ میں مضمحل ساShahryar (1936–2012)
  27. رات کا یہ سمندر تمہارے لیےتم سمندر کی خاطر بنے ہوShahryar (1936–2012)
  28. شمع کی لو نے جب آخری سانس لیآخر شبShahryar (1936–2012)
  29. کیا سوچتی ہودیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہوShahryar (1936–2012)
  30. مگر بے ذائقہ ہونٹوں سےتم نے سخت چٹانوں کو چوما تھاShahryar (1936–2012)
  31. میں اپنے گھاؤ گن رہا ہوںدور تتلیوں کے ریشمی پروں کے نیلے پیلے رنگShahryar (1936–2012)
  32. وہ کون تھا وہ کون تھاطلسم شہر آرزو جو توڑ کر چلا گیاShahryar (1936–2012)
  33. ہنسو کہ سرخ و گرم خون پھر سفید ہو گیاہنسو کہ نقطۂ امید پھر خلا کے دائرے میں آج قید ہو گیاShahryar (1936–2012)
  34. آنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئیآنسوؤں میں بھیگ جانے کی ہوس پوری ہوئیShahryar (1936–2012)
  35. آنکھوں میں تیری دیکھ رہا ہوں میں اپنی شکلیہ کوئی واہمہ یہ کوئی خواب تو نہیںShahryar (1936–2012)
  36. بہت شور تھا جب سماعت گئیبہت بھیڑ تھی جب اکیلے ہوئےShahryar (1936–2012)
  37. زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کوسنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہیShahryar (1936–2012)
  38. کون سی بات ہے جو اس میں نہیںاس کو دیکھے مری نظر سے کوئیShahryar (1936–2012)
  39. وقت کو کیوں بھلا برا کہیےتجھ کو ہونا ہی تھا جدا ہم سےShahryar (1936–2012)
  40. ہم جدا ہو گئے آغاز سفر سے پہلےجانے کس سمت ہمیں راہ وفا لے جاتیShahryar (1936–2012)
  41. ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئےShahryar (1936–2012)
  42. ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کوکتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہےShahryar (1936–2012)
  43. آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سےآوازے کسے جاتے ہیں بونوں کی طرف سےAdil Mansuri (1936–2008)
  44. اب ٹوٹنے ہی والا ہے تنہائی کا حصاراک شخص چیختا ہے سمندر کے آر پارAdil Mansuri (1936–2008)
  45. ابلاغ کے بدن میں تجسس کا سلسلہٹوٹا ہے چشم خواب میں حیرت کا آئنہAdil Mansuri (1936–2008)
  46. ایک قطرہ اشک کا چھلکا تو دریا کر دیاایک مشت خاک جو بکھری تو صحرا کر دیاAdil Mansuri (1936–2008)
  47. بدن پر نئی فصل آنے لگیہوا دل میں خواہش جگانے لگیAdil Mansuri (1936–2008)
  48. بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھامیں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھاAdil Mansuri (1936–2008)
  49. بھول کر بھی نہ پھر ملے گا توجانتا ہوں یہی کرے گا توAdil Mansuri (1936–2008)
  50. پانی کو پتھر کہتے ہیںکیا کچھ دیدہ ور کہتے ہیںAdil Mansuri (1936–2008)