Poetry
Poet
Meter
- نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہوکسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہوAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہےمگر یہ بات بڑی دور جا نکلتی ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ سہہ سکا جب مسافتوں کے عذاب سارےتو کر گئے کوچ میری آنکھوں سے خواب سارےAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہےکس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیںعجب سفر ہے کہ بس ہم سفر کو دیکھتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- نہیں کہ نامہ بروں کو تلاش کرتے ہیںہم اپنے بے خبروں کو تلاش کرتے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- وحشت دل صلۂ آبلہ پائی لے لےمجھ سے یارب مرے لفظوں کی کمائی لے لےAhmad Faraz (1931–2008)
- وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھاب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھAhmad Faraz (1931–2008)
- وفا کے باب میں الزام عاشقی نہ لیاکہ تیری بات کی اور تیرا نام بھی نہ لیاAhmad Faraz (1931–2008)
- وہ دشمن جاں جان سے پیارا بھی کبھی تھااب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھاAhmad Faraz (1931–2008)
- وہی سچ بولنے والا ہمارا دوست دیکھوگلے میں طوق پاؤں میں رسن پہنے ہوئے ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر آشنا میں کہاں خوئے محرمانہ وہکہ بے وفا تھا مگر دوست تھا پرانا وہAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگےکہ ہم کو دست زمانہ سے زخم کاری لگےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر تماشائی فقط ساحل سے منظر دیکھتاکون دریا کو الٹتا کون گوہر دیکھتاAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھےکس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہر کوئی طرۂ پیچاک پہن کر نکلاایک میں پیرہن خاک پہن کر نکلاAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم بھی شاعر تھے کبھی جان سخن یاد نہیںتجھ کو بھولے ہیں تو دل داریٔ فن یاد نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہےاب جو آرام بہت ہے تو سکوں کچھ کم ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہےکیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیاچراغ کو جو بچاتے تھے ان کا گھر بھی گیاAhmad Faraz (1931–2008)
- ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر توکہاں گیا ہے مرے شہر کے مسافر توAhmad Faraz (1931–2008)
- یوں تو پہلے بھی ہوئے اس سے کئی بار جدالیکن اب کے نظر آتے ہیں کچھ آثار جداAhmad Faraz (1931–2008)
- یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیںزندگی ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیںAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ بے دلی ہے تو کشتی سے یار کیا اتریںادھر بھی کون ہے دریا کے پار کیا اتریںAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ حبس تو جلتی ہوئی رت سے بھی گراں ہےاے ٹھہرے ہوئے ابر کرم اب تو برس بھیAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ شہر سحر زدہ ہے صدا کسی کی نہیںیہاں خود اپنے لیے بھی دعا کسی کی نہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ طبیعت ہے تو خود آزار بن جائیں گے ہمچارہ گر روئیں گے اور غم خوار بن جائیں گے ہمAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائےوہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائےAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنیفرازؔ تجھ کو نہ آئیں محبتیں کرنیAhmad Faraz (1931–2008)
- یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر اسی کا رہاکہ جس کے ساتھ نہ تھا ہم سفر اسی کا رہاAhmad Faraz (1931–2008)
- اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جواس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکیAhmad Faraz (1931–2008)
- اتنا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحراایسی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- اتنی مدت دل آوارہ کہاں تھا کہ تجھےاپنے ہی گھر کے در و بام بھلا بیٹھے ہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- اک سنگ تراش جس نے برسوںہیروں کی طرح صنم تراشےAhmad Faraz (1931–2008)
- اک عمر کے بعد تم ملے ہواے میرے وطن کے خوش نواؤAhmad Faraz (1931–2008)
- اے دل ان آنکھوں پر نہ جاجن میں وفور رنج سےAhmad Faraz (1931–2008)
- اے سیہ فام حسینہ ترا عریاں پیکرکتنی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں غلطیدہ ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- بھلے دنوں کی بات ہےبھلی سی ایک شکل تھیAhmad Faraz (1931–2008)
- تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھامر مر کر یہ زہر پیا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- تم اپنے عقیدوں کے نیزےہر دل میں اتارے جاتے ہوAhmad Faraz (1931–2008)
- حضور آپ اور نصف شب مرے مکان پرحضور کی تمام تر بلائیں میری جان پرAhmad Faraz (1931–2008)
- درد کی آگ بجھا دو کہ ابھی وقت نہیںزخم دل جاگ سکے نشتر غم رقص کرےAhmad Faraz (1931–2008)
- دل سلگ اٹھتا ہے اپنے بام و در کو دیکھ کرپھیلنے لگتی ہیں جب بھی شام کی پرچھائیاںAhmad Faraz (1931–2008)
- روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتیکوئی گھٹتا ہوا بڑھتا ہوا بیکل سایہAhmad Faraz (1931–2008)
- عمروں کی مسافت سےتھک ہار گئے آخرAhmad Faraz (1931–2008)
- غم تمہارا تھا زندگی گویاتم کو کھویا اسے نہیں کھویاAhmad Faraz (1931–2008)
- کب سے سنسان خرابوں میں پڑا تھا یہ جہاںکب سے خوابیدہ تھے اس وادئ خارا کے صنمAhmad Faraz (1931–2008)
- کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہےاتنا تو کڑا سفر نہیں تھاAhmad Faraz (1931–2008)
- کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرحایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دلAhmad Faraz (1931–2008)
- کل واشنگٹن شہر کی ہم نے سیر بہت کی یارگونج رہی تھی سب دنیا میں جس کی جے جے کارAhmad Faraz (1931–2008)