اسی کے فیض سے آتش کدے ہوئے گلزار
Ahmad Faraz (1931–2008)اسی کے فیض سے آتش کدے ہوئے گلزار
اسی کے لطف سے ہر زشت بن گیا اجمل
اسی نے مجھ سے کہا جو ملا بہت کچھ ہے
اسی نے مجھ سے کہا جو نہیں ہے ہاتھ نہ مل
اسی کے فیض سے آتش کدے ہوئے گلزار
اسی کے لطف سے ہر زشت بن گیا اجمل
اسی نے مجھ سے کہا جو ملا بہت کچھ ہے
اسی نے مجھ سے کہا جو نہیں ہے ہاتھ نہ مل