دنیا سے بے نیاز غزل کہہ رہا ہوں میں

JaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)

دنیا سے بے نیاز غزل کہہ رہا ہوں میں

قلب و جگر نواز غزل کہہ رہا ہوں میں

اے دل ذرا ٹھہر کہ ہیں صحن چمن میں وہ

محو خرام ناز غزل کہہ رہا ہوں میں

چھلکے ترے جمال کی رنگینیاں کچھ اور

اک ایسی دل نواز غزل کہہ رہا ہوں میں

کرتا ہوں بے نقاب رخ روشن حیات

پردہ کشائے راز غزل کہہ رہا ہوں میں

مستی میں تاکہ گزرے میری شام زندگی

اے میرے کارساز غزل کہہ رہا ہوں میں

ان نازک انگلیوں سے ذرا مسکرا کے چھیڑ

دھیمے سے کوئی ساز غزل کہہ رہا ہوں میں

ساغر بدست آیا ہے ساقی بہار میں

بس ہو چکی نماز غزل کہہ رہا ہوں میں

اس تیر نیم کش کا مزا ہو مجھے عطا

اے چشم نیم باز غزل کہہ رہا ہوں میں

تنہائیوں میں رات کی یاد حبیبؔ نے

چھیڑا ہے دل کا ساز غزل کہہ رہا ہوں میں