Poetry
Hazaj Musaddas Mahzuf
ہزج مسدس محذوف- کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔکہاں ہو میری زلفوں کے اسیروQaisar Siddiqi (1937–2018)
- وہ کیوں مغموم و دل برداشتہ ہیںیہ سارے زخم تو خود ساختہ ہیںGhani Ahmad Ghani (b. 1937)
- محبت میں وفاداری سے بچئےجہاں تک ہو اداکاری سے بچئےNida Fazli (1938–2016)
- ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہےمحبت اک ضروری حادثہ ہےNida Fazli (1938–2016)
- یہ کیسی کشمکش ہے زندگی میںکسی کو ڈھونڈتے ہیں ہم کسی میںNida Fazli (1938–2016)
- بھلا چاہے گا کوئی کیا کسی کاہو دشمن آدمی جب آدمی کاPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- پئے جاتا ہوں ساقی کی نظر سےمجھے کیا گردش شام و سحر سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کبھی تسکیں کبھی آزار بھی ہےمحبت پھول بھی ہے خار بھی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کبھی میں نے انہیں پوچھا نہیں ہےانہیں بھی ہے محبت یا نہیں ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- مسرت چیز کیا ہے رنج کیا ہےیہ سارا کھیل اک احساس کا ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- ہمیں نفرت ہے ایسی زندگی سےتعلق ہی نہ ہو جس کو خوشی سےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- کمال آدمی کی انتہا ہےوہ آئندہ میں بھی سب سے بڑا ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- گلہ کیوں ہو ملی ہم کو وفا کمزمانے سے ہمیں تھے آشنا کمEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- کہاں قطرہ کی غم خواری کرے ہےسمندر ہے اداکاری کرے ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ مجھ کو کیا بتانا چاہتا ہےجو دنیا سے چھپانا چاہتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- بہت سے خواب دیکھو گے تو آنکھیںتمہارا ساتھ دینا چھوڑ دیں گیWaseem Barelvi (b. 1940)
- مجھے پڑھتا کوئی تو کیسے پڑھتامرے چہرے پہ تم لکھے ہوئے تھےWaseem Barelvi (b. 1940)
- اداسی کا سمندر دیکھ لینامری آنکھوں میں آ کر دیکھ لیناKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- گھٹاؤں کی اداسی پی رہا ہوںمیں اک گہرا سمندر بن گیا ہوںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- لبوں پر پیاس سب کے بے کراں ہےہر اک جانب مگر اندھا کنواں ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- تماشا اک انوکھا سا دکھاناتردد میں کھلا چہرہ دکھاناJafar Sahni (1941–2018)
- کبھی نازک کبھی بے حد کڑا ہےوہ تغلقؔ سامنے بن کر کھڑا ہےJafar Sahni (1941–2018)
- دل و جاں کے فسانے کیا ہوئے سبمحبت کے ترانے کیا ہوئے سبBadnam Nazar (1941–2023)
- عبارت سے ورق عاری رہے گامگر لکھنا مرا جاری رہے گاLutf-ur-rahman (b. 1941)
- میرا یہ جسم تو بے شک یہاں ہےمگر دل تو وہیں ہے تو جہاں ہےV. C. Rai Naya (b. 1941)
- رہو گے ہم سے کب تک بے خبر سےجدا ہوتی نہیں دیوار در سےHafeez Shahid (1942–2014)
- عجب بگڑے مقدر بن گئے ہیںجو دریا تھے سمندر بن گئے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- کسی کی یاد میں لکھا ہے جو کچھیہی کچھ ہے مرا اپنا ہے جو کچھHafeez Shahid (1942–2014)
- وہ ہم سے ہو گیا ہے بے خبر کچھبدلتے موسموں کا ہے اثر کچھHafeez Shahid (1942–2014)
- ہمیں اہل زمانہ ڈھونڈتے ہیںکوئی تازہ نشانہ ڈھونڈتے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- ہوا خاموش پتے سو رہے ہیںابھی شاخوں پہ غنچے سو رہے ہیںHafeez Shahid (1942–2014)
- یہ بستی جانی پہچانی بہت ہےیہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہےIftikhar Arif (b. 1943)
- خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مرا دل جیسے کوئی آئینہ ہےترا ہی عکس اس میں بس گیا ہےRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہےمگر یہ تو مری منزل نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- ہمارے دل میں اب تلخی نہیں ہےمگر وہ بات پہلے سی نہیں ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- ہمارے شوق کی یہ انتہا تھیقدم رکھا کہ منزل راستا تھیJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ دنیا تم کو راس آئے تو کہنانہ سر پتھر سے ٹکرائے تو کہناJaved Akhtar (b. 1945)
- یہ مجھ سے پوچھتے ہیں چارہ گر کیوںکہ تو زندہ تو ہے اب تک مگر کیوںJaved Akhtar (b. 1945)
- ہر اک رشتہ کہانی ہو چلا ہےہمارا خون پانی ہو چلا ہےZafar Sahbai (b. 1946)
- یہ کیا تحریر پاگل لکھ رہا ہےہر اک پیاسے کو بادل لکھ رہا ہےZafar Sahbai (b. 1946)
- وہاں ہر آدمی چکرا گیا ہےجہاں سے راستہ بل کھا گیا ہےGhayur Jafari (1946–2001)
- زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوںمیں آوازوں کے بن میں گھر گیا ہوںMohsin Naqvi (1947–1996)
- میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھیمجھے خود سے بھی وحشت ہو رہی تھیMohsin Naqvi (1947–1996)
- نئی راہوں پہ چلنا چاہتا ہےزمانہ پھر بدلنا چاہتا ہےZafar Aziz (b. 1947)
- ہوا نمناک ہوتی جا رہی ہےحویلی خاک ہوتی جا رہی ہےRaeesuddin Raees (b. 1948)
- جنوں کی زندگی ناکام کیوں ہےوفا کا بے وفائی نام کیوں ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- حساب دوستاں در دل نہیں ابپلٹنا باتوں سے مشکل نہیں ابOzair Rahman (b. 1949)
- مجھے اے زندگی آواز مت دےنہیں منزل کوئی پرواز مت دےOzair Rahman (b. 1949)
- جو یہ ہر سو فلک منظر کھڑے ہیںنہ جانے کس کے پیروں پر کھڑے ہیںRahat Indori (1950–2020)