میرا یہ جسم تو بے شک یہاں ہے

V. C. Rai Naya (b. 1941)

میرا یہ جسم تو بے شک یہاں ہے

مگر دل تو وہیں ہے تو جہاں ہے

جو راہ زیست میں ہر سو دھواں ہے

امیدوں کا غبار کارواں ہے

امیدیں باندھ بڑھ آگے اکیلے

کہ رہ جاتا یہیں ہر کارواں ہے

مری مانو تو سیدھی راہ چلنا

ادھر کھائی ادھر اندھا کنواں ہے

ترے سب کشٹ ہر آنند دے گا

وہ لیتا پہلے سب کا امتحاں ہے

یہ آنکھوں کی عجب دریا دلی ہے

خوشی ہو یا کہ غم آنسو رواں ہے

ہنسی میں مت اڑا میری کہانی

ترے جذبات ہیں میری زباں ہے

نیاؔ کیوں تیز ہے دھڑکن مرے دل

وہ شاید آج مجھ پہ مہرباں ہے