ہر اک رشتہ کہانی ہو چلا ہے
Zafar Sahbai (b. 1946)ہر اک رشتہ کہانی ہو چلا ہے
ہمارا خون پانی ہو چلا ہے
حقیقت خوف کی صورت ہے دل میں
اب انساں داستانی ہو چلا ہے
فضا میں گونجتی ہے شب کی آہٹ
افق بھی زعفرانی ہو چلا ہے
پرے رکھو یہ ماہ و سال کا غم
شعور اب لا مکانی ہو چلا ہے
ذرا سورج جھکا ہی تھا زمیں پر
تپش سے برف پانی ہو چلا ہے
ظفرؔ دونوں طرف کے لوگ خوش ہیں
وہ شاید درمیانی ہو چلا ہے