Poetry
Hazaj Musamman Salim
ہزج مثمن سالم- نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتےیہاں منظر ہی ایسے ہیں کہ دل بھرنے نہیں دیتےWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ میرے گھر نہیں آتا میں اس کے گھر نہیں جاتامگر ان احتیاطوں سے تعلق مر نہیں جاتاWaseem Barelvi (b. 1940)
- یہ ماضی جو مری تنہائیوں کے ساتھ رہتا ہےیہ اک نادان بچے کی طرح تنہائی کوWaseem Barelvi (b. 1940)
- تجھے پانے کی کوشش میں کچھ اتنا کھو چکا ہوں میںکہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگاWaseem Barelvi (b. 1940)
- سبھی رشتے گلابوں کی طرح خوشبو نہیں دیتےکچھ ایسے بھی تو ہوتے ہیں جو کانٹے چھوڑ جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- کسی سے کوئی بھی امید رکھنا چھوڑ کر دیکھوتو یہ رشتہ نبھانا کس قدر آسان ہو جائےWaseem Barelvi (b. 1940)
- مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہےکہ یہ آنسو بہانے کی بھی تو مہلت نہیں دیتےWaseem Barelvi (b. 1940)
- نہ پانے سے کسی کے ہے نہ کچھ کھونے سے مطلب ہےیہ دنیا ہے اسے تو کچھ نہ کچھ ہونے سے مطلب ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- سکوں تھوڑا سا پایا دھوپ کے ٹھنڈے مکانوں میںبہت جلنے لگا تھا جسم برفیلی چٹانوں میںKafeel Aazar Amrohvi (b. 1940)
- مری چیخیں فصیلوں سے کبھی باہر نہیں جاتیںشکستہ ہو کے گرنے پر صدا دیتی ہیں دیواریںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- ہماری زیست میں ایسے بھی لمحے آتے ہیں اکثردراروں کے توسط سے ہوا دیتی ہیں دیواریںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- میں گہری نیند میں تھا جب کہ یہ بھیجی گئی دنیااب استعمال کرنی ہے مجھے دے دی گئی دنیاOm Prabhakar (b. 1941)
- ہماری خلوتوں کی دھن در و دیوار سنتے ہیںچمن کے رنگ و بو کی بندشوں کو خار سنتے ہیںOm Prabhakar (b. 1941)
- حرم کی راہ میں سنتے ہیں اک بت خانہ آتا ہےاسی منزل پہ شاید دوست کا کاشانہ آتا ہےZafar Mujeebi (b. 1941)
- عدم کے جانے والوں کو بلایا جا نہیں سکتاکچھ ایسی نیند سوئے ہیں جگایا جا نہیں سکتاZafar Mujeebi (b. 1941)
- کسی سے خوف کھاتے ہیں نہ دب کر بات کرتے ہیںصداقت کے پیمبر جب بھی حق پر بات کرتے ہیںZaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)
- ہزاروں زخم دل میں کر رہے تیر نظر پیدابڑی مشکل سے فولادی کہیں ہوتے جگر پیداV. C. Rai Naya (b. 1941)
- اپاہج باپ کو بیٹا اکیلا چھوڑ جاتا ہےمصیبت میں تو اکثر ساتھ سایہ چھوڑ جاتا ہےLaxman Sharma Vahid (b. 1942)
- کسی دن چاند پر ہم لوگ بھی راکٹ سے جائیں گےیہ مانا چاند ابھی اک ریت کا میدان ہے لیکنKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مری گڑیا کسی دن چاند پر شادی رچائے گیزمیں کے تو سبھی گڈے نظر آتے ہیں اب بڈھےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- مٹیں گے میرے دل سے رنج و غم آہستہ آہستہقرار آئے گا تجھ کو چشم نم آہستہ آہستہVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میںیہ کس کا خون ہے ساقی بتا اس آبگینے میںBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- جدھر جاتے ہیں سب جانا ادھر اچھا نہیں لگتامجھے پامال رستوں کا سفر اچھا نہیں لگتاJaved Akhtar (b. 1945)
- تمہارا کیا تمہیں آساں بہت رستے بدلنا ہےہمیں ہر ایک موسم قافلے کے ساتھ چلنا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- بنانا ہے ہمیں اب اپنے ہاتھوں اپنی قسمت کوہمیں اپنے وطن کا آپ بیڑا پار کرنا ہےJafar Malihabadi (b. 1946)
- انوکھا روپ دھارا ہے نرالا قد نکالا ہےذرا سی شاخ نے کیسا بڑا برگد نکالا ہےHafeez Momin (b. 1948)
- ٹھکانا ہو نہ ہو پھر بھی ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیںقفس میں رہ کے بھی ہم آشیانہ ڈھونڈ لیتے ہیںKailash Guru Swami (b. 1948)
- وہ انساں در حقیقت صاحب کردار ہوتا ہےکہ جس انساں کے دل میں جذبۂ ایثار ہوتا ہےZafar Adil Quraishi (b. 1948)
- اسے اب کے وفاؤں سے گزر جانے کی جلدی تھیمگر اس بار مجھ کو اپنے گھر جانے کی جلدی تھیRahat Indori (1950–2020)
- پرانے داؤں پر ہر دن نئے آنسو لگاتا ہےوہ اب بھی اک پھٹے رومال پر خوشبو لگاتا ہےRahat Indori (1950–2020)
- تمہارے نام پر میں نے ہر آفت سر پہ رکھی تھینظر شعلوں پہ رکھی تھی زباں پتھر پہ رکھی تھیRahat Indori (1950–2020)
- ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیںRahat Indori (1950–2020)
- نہیں جانے ہے وہ حرف ستائش برملا کہنامگر نظروں ہی نظروں میں وہ اس کا واہ وا کہناSabiha Saba (b. 1950)
- پہنچ کر شب کی سرحد پر اجالا ڈوب جاتا ہےنہ ہو جس کا کوئی وہ بے سہارا ڈوب جاتا ہےGhayas Anjum (b. 1950)
- رہ بے سائباں سے کوئی رشتہ جوڑ کر دیکھوںمیں اپنے شہر کی ساری فصیلیں توڑ کر دیکھوںYasmeen Hameed (b. 1951)
- کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سےچھلکتا کیوں نہیں سیلاب میں پانی کناروں سےYasmeen Hameed (b. 1951)
- لبوں پر پیاس ہو تو آس کے بادل بھرے رکھیوسرابوں کے سفر میں اس طرح گلشن ہرے رکھیوIbrahim Ashk (b. 1951)
- خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوںتری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
- کھلے گی اس نظر پہ چشم تر آہستہ آہستہکیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہParveen Shakir (1952–1994)
- میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوںعجب ہے بے خودی دہلیز پہ نظریں جمائے ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
- سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاریکہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- گھنے ارمان گاڑھی آرزو کرنے سے ملتا ہےخدا جاڑے کی راتوں میں وضو کرنے سے ملتا ہےTafzeel Ahmad (b. 1954)
- پہن کر دست و پا میں آہنی زیور نکلتے ہیںترے وحشی بہ سوئے دار بن ٹھن کر نکلتے ہیںZafar Siddiqui (b. 1954)
- ہر اک تحریر نفرت کی مٹانا چاہتا ہوں میںمحبت ہی محبت کا فسانہ چاہتا ہوں میںEjaz Ansari (b. 1955)
- یہ چھوٹا سا مکاں بغیا لگانے کون دیتا ہےدر و دیوار پر سبزہ اگانے کون دیتا ہےParveen Kaif (b. 1956)
- کسی کے ساتھ دینے کا کوئی امکاں نہیں ہوتاوسیع القلب ہونا اس قدر آساں نہیں ہوتاVazahat Nseem (b. 1956)
- بہت ہیں زندگی میں غم سنو خاموش کیوں ہو تمتمہارے روبرو ہیں ہم سنو خاموش کیوں ہو تمMadhurima Singh (b. 1956)
- تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میںبہت عرصہ لگا ہے پیرہن کو چاک کرنے میںObaid Siddiqi (1957–2020)
- فضائے آدمیت کو سنورنے ہی نہیں دیتےسیاست داں دلوں کے زخم بھرنے ہی نہیں دیتےCharan Singh Bashar (b. 1957)
- کسی گم کردۂ منزل نے ہی پہرے پہ رکھی ہےوہ اک زندہ لہو کی بوند جو کانٹے پہ رکھی ہےCharan Singh Bashar (b. 1957)