مٹیں گے میرے دل سے رنج و غم آہستہ آہستہ
Vijendra Singh Parwaz (b. 1943)مٹیں گے میرے دل سے رنج و غم آہستہ آہستہ
قرار آئے گا تجھ کو چشم نم آہستہ آہستہ
یقیناً ایک دن منزل انہیں کے پاؤں چومے گی
بڑھائے جا رہے ہیں جو قدم آہستہ آہستہ
ہمارے حال پہ اک دن کرم کی بارشیں ہوں گی
فنا ہو جائے گی رسم ستم آہستہ آہستہ
ابھی تو رفتہ رفتہ یہ زباں بندی تک آئے ہیں
پھر اس کے بعد چھینیں گے قلم آہستہ آہستہ
ہماری شاعری پروازؔ ایسا سلسلہ ٹھہری
کیا جس میں خیالوں کو رقم آہستہ آہستہ