کسی سے خوف کھاتے ہیں نہ دب کر بات کرتے ہیں
Zaheer Ahmad Zaheer (b. 1941)کسی سے خوف کھاتے ہیں نہ دب کر بات کرتے ہیں
صداقت کے پیمبر جب بھی حق پر بات کرتے ہیں
نہیں ہے حوصلہ جن میں حقیقت پیش کرنے کا
نہ آتے روبرو ہیں وہ نہ کھل کر بات کرتے ہیں
بتا دیتے ہیں احوال دل و راز نہاں چہرے
خموشی ہو لبوں پر لاکھ تیور بات کرتے ہیں
نہیں شیوہ ہمارا پھر مکرنے کا بدلنے کا
جو دل میں ہے زباں سے ہم وہ کھل کر بات کرتے ہیں
سبب خود آپ ہی بنتے ہیں وہ اپنی تباہی کا
حسد کی آگ میں جو لوگ جل کر بات کرتے ہیں
ہمارا ہی جگر ہے یہ ہمارا حوصلہ ہے یہ
ہو دل پہ زخم گہرا بھی تو ہنس کر بات کرتے ہیں