Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- دے دیں ابھی کرے جو کوئی خوب رو پسندہم کو نہیں پسند دل آرزو پسندنسیم بھرتپوری
- رمز آشنا ملے کئی اہل نظر ملےپھر بھی یہ جستجو رہی کوئی بشر ملےپنڈت ہری چند اختر
- ہم جوں چکور غش ہیں اجی ایک یار پربلبل کی طرح جی نہیں دیتے ہزار پرسعادت یار خان رنگین
- اصلاح اہل ہوش کا یارا نہیں ہمیںاس قوم پر خدا نے اتارا نہیں ہمیںسراج الدین ظفر
- ساغر اٹھا کے زہد کو رد ہم نے کر دیاپھر زندگی کے جزر کو مد ہم نے کر دیاسراج الدین ظفر
- سب ماسوائے عشق فریب سراب ہےمیں بھی ہوں خواب میری جوانی بھی خواب ہےسراج الدین ظفر
- ہم آہوان شب کا بھرم کھولتے رہےمیزان دلبری پہ انہیں تولتے رہےسراج الدین ظفر
- اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤسوتے میں بھی یہ کہتے ہیں ہم ہائے لکھنؤواجد علی شاہ
- تیرا ستم جو مجھ سے گدا نے سہا سہاتو بادشہ ہے جو مجھے تو نے کہا کہابیاں احسن اللہ خان
- رات اس تنک مزاج سے کچھ بات بڑھ گئیوہ روٹھ کر گیا تو غضب رات بڑھ گئیبیاں احسن اللہ خان
- فرہاد کس امید پہ لاتا ہے جوئے شیرواں خون کی ہوس ہے نہیں آرزوئے شیربیاں احسن اللہ خان
- کہتا ہے کون ہجر مجھے صبح و شام ہوپر وصل میں بھی لطف نہیں جو مدام ہوبیاں احسن اللہ خان
- یا رب نہ ہند ہی میں یہ ماٹی خراب ہوجا کر نجف میں خاک در بو تراب ہوبیاں احسن اللہ خان
- پانی کو آگ کہہ کے مکر جانا چاہئےپلکوں پہ اشک بن کے ٹھہر جانا چاہئےیوسف ظفر
- جلوے ترے جو رونق بازار ہو گئےخوبان خود فروش خریدار ہو گئےحسن بریلوی
- دیکھے اگر یہ گرمئ بازار آفتابسر بیچ کر ہو تیرا خریدار آفتابحسن بریلوی
- کس نے سنایا اور سنایا تو کیا سناسنتا ہوں آج تو نے مرا ماجرا سناحسن بریلوی
- وہ من گئے تو وصل کا ہوگا مزا نصیبدل کی گرہ کے ساتھ کھلے گا مرا نصیبحسن بریلوی
- شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیاپائے تلاش پہلی ہی منزل میں رہ گیامرزا محمد تقی ہوس
- ہنستے تھے مرے حال کو جو یار دیکھ کران سب نے رو دیا مجھے بیمار دیکھ کرمرزا محمد تقی ہوس
- دیکھی جو زلف یار طبیعت سنبھل گئیآئی ہوئی بلا مرے سر پر سے ٹل گئیمرزارضا برق
- مطلب نہ کعبہ سے نہ ارادہ کنشت کاپابند یہ فقیر نہیں سنگ و خشت کامرزارضا برق
- اٹھی ہے جب سے دل میں مرے عشق کی ترنگشادی و غم ہیں آگے مرے دونوں ایک رنگشاہ آثم
- اسلام اور کفر ہمارا ہی نام ہےکعبہ کنشت دونوں میں اپنا مقام ہےشاہ آثم
- دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئیاب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئیآغا شاعر قزلباش
- رونے سے جو بھڑاس تھی دل کی نکل گئیآنسو بہائے چار طبیعت سنبھل گئیآغا شاعر قزلباش
- کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کاکہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کاآغا شاعر قزلباش
- مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیںدو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیںآغا شاعر قزلباش
- بیٹھے جو شام سے ترے در پہ سحر ہوئیافسوس اے قمر کہ نہ مطلق خبر ہوئیبھارتیندو ہریش چندر
- جب سے گیا ہے وہ مرا ایمان زندگیکافر ہو جس کے دل میں ہو ارمان زندگیغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- یہ دل ہی جلوہ گاہ ہے اس خوش خرام کادیکھا تو صرف نام ہے بیت الحرام کاغلام یحییٰ حضورعظیم آبادی
- حالانکہ پہلے دن سے کہا جا رہا ہوں میںلیکن کہاں کسی کو سنا جا رہا ہوں میںLiaqat Jafri
- اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھامدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کررحمت کی مجھ پہ ایک نظر کر سکے تو کرمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیاانسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھاوہ بھی تھا وقت جب کہ غم دو جہاں نہ تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- نظم اتحادمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- دنیا سے بے شمار مسلماں گزر گئےحسن ازل پہ ششدر و حیراں گزر گئےUrooj Qadri
- یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چلہمت کو اپنی تول قدم کو جما کے چلUrooj Qadri
- باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیاکوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیااحسن مارہروی
- قاصد نئی ادا سے ادائے پیام ہومطلب یہ ہے کہ بات نہ ہو اور کلام ہواحسن مارہروی
- گلشن میں تھی بہار ابھی کل کی بات ہےپھولوں پہ تھا نکھار ابھی کل کی بات ہےDard Sironji
- محتاج دید و جلوہ کروں کیوں نظر کو میںنظروں میں کھینچ لاتا ہوں جب جلوہ گر کو میںPanna Lal Noor
- افسردہ دل کے واسطے کیا چاندنی کا لطفلپٹا پڑا ہے مردہ سا گویا کفن کے ساتھQadr Bilgrami
- یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھاجب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھاTabish Kamal
- قطرہ وہی کہ روکش دریا کہیں جسےیعنی وہ میں ہی کیوں نہ ہوں تجھ سا کہیں جسےآسی غازی پوری
- افسانۂ حیات کو دہرا رہا ہوں میںیوں اپنی عمر رفتہ کو لوٹا رہا ہوں میںامین حزیں سیالکوٹی
- بھڑکی ہوئی ہے شمع شبستان زندگیشعلہ نہ چوم لے کہیں دامان زندگیامین حزیں سیالکوٹی
- یوں دل ہے سر بہ سجدہ کسی کے حضور میںجیسے کہ غوطہ زن ہو کوئی بحر نور میںامین حزیں سیالکوٹی
- قاتل کی ساری سازشیں ناکام ہی رہیںچہرہ کچھ اور کھل اٹھا زہراب گر پیاBadr Wasti