Poetry
Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف- پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چلشاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چلHabib Jalib (1928–1993)
- دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیاHabib Jalib (1928–1993)
- یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہمHabib Jalib (1928–1993)
- یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئےآباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئےHabib Jalib (1928–1993)
- نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماںرہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاںHabib Jalib (1928–1993)
- دیکھا نہیں وہ آدمی تنہا کہوں جسےوہ آج تک ملا نہیں اپنا کہوں جسےGhalib Ahmad (b. 1928)
- عہد غضب ہے شور بہت قیل و قال کایہ دور ہے بہائے ادب کے زوال کاGhalib Ahmad (b. 1928)
- موسم بدل سکے نہ ترے انتظار کےاب کے بھی دن گزر گئے یوں ہی بہار کےGhalib Ahmad (b. 1928)
- جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آجاف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آجQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دنایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دنA G Josh (1928–2007)
- کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دلکیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاںIbn-e-Safi (1928–1980)
- دانستہ ہم نے اپنے سبھی غم چھپا لیےپوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیےAafaque Siddiqui (b. 1928)
- بہتر دنوں کی آس لگاتے ہوئے حبیبؔہم بہترین دن بھی گنواتے چلے گئےHabeeb Amrohvi (1928–1999)
- انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہاوہ مجھ سے خوش رہے تو زمانہ خفا رہاGhani Ejaz (1929–2010)
- بجلی کی زد میں ایک مرا آشیاں نہیںوہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
- بجلی گری تو سوچ کے سب تار کٹ گئےیک لخت روشنی سے اندھیرے لپٹ گئےGhani Ejaz (1929–2010)
- لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئےمنزل قریب آئی تو رستے بدل گئےDaud Nishat (1929–1992)
- مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہےمحسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہےDaud Nishat (1929–1992)
- چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاںجانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
- آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
- اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیااچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیاشاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
- کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھادیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھاMustafa Zaidi (1930–1970)
- میری تباہیوں پہ کوئی مسکرا دیاگویا کسی نے کچھ تو مجھے آسرا دیاDaur Afridi (1930–1992)
- اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سےکب تک چلے گا کام تمہاری دعاؤں سےBalraj Hairat (1930–1995)
- حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیاناحق میں اس کی بات پہ رنجیدہ ہو گیاBalraj Hairat (1930–1995)
- قرنوں پرانا وقت کو للکارتا ہوااک شہر ہے ہمارے بھی اندر بسا ہواBalraj Hairat (1930–1995)
- کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھاسورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھاBalraj Hairat (1930–1995)
- نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیادانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیاBalraj Hairat (1930–1995)
- دنیا کی لذتوں سے مفر کر رہا ہوں میںبس سادگی سے عمر بسر کر رہا ہوں میںYas Chandpuri (b. 1930)
- اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیںتیرے نظر نواز اشارے ہمیں تو ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
- گلشن سے آئے ہیں نہ بیاباں سے آئے ہیںاک ماہ وش کے حسن فروزاں کے فیض سےParkash Nath Parvez (b. 1930)
- سب کے لیے سوال یہ کب ہے کہ کیا نہ ہوان کو تو مجھ سے ضد ہے کہ میرا کہا نہ ہوRaees Rampuri (b. 1930)
- اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہمAhmad Faraz (1931–2008)
- اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئےبول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئےAhmad Faraz (1931–2008)
- اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوااب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہواAhmad Faraz (1931–2008)
- بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئےاک ہم تھے تیری بزم میں آنسو پیے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
- تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئےپھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئےAhmad Faraz (1931–2008)
- تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوںمیں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوںAhmad Faraz (1931–2008)
- جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گااب آگہی کا زہر زباں پر نہ آئے گاAhmad Faraz (1931–2008)
- شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دومیں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دوAhmad Faraz (1931–2008)
- قامت کو تیرے سرو صنوبر نہیں کہاجیسا بھی تو تھا اس سے تو بڑھ کر نہیں کہاAhmad Faraz (1931–2008)
- کل ہم نے بزم یار میں کیا کیا شراب پیصحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پیAhmad Faraz (1931–2008)
- کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرےجو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرےAhmad Faraz (1931–2008)
- نوحہ گروں میں دیدۂ تر بھی اسی کا تھامجھ پر یہ ظلم بار دگر بھی اسی کا تھاAhmad Faraz (1931–2008)
- ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میںہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
- اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئےجو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئےJaun Elia (1931–2002)
- اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوااس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہواJaun Elia (1931–2002)
- باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گےہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گےJaun Elia (1931–2002)
- دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لوجانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لوJaun Elia (1931–2002)