Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Muzari' Musamman Akhrab Makfuf Mahzuf

مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. پھر دل سے آ رہی ہے صدا اس گلی میں چلشاید ملے غزل کا پتا اس گلی میں چلHabib Jalib (1928–1993)
  2. دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیاHabib Jalib (1928–1993)
  3. یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہملیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہمHabib Jalib (1928–1993)
  4. یہ سوچ کر نہ مائل فریاد ہم ہوئےآباد کب ہوئے تھے کہ برباد ہم ہوئےHabib Jalib (1928–1993)
  5. نغمہ بھی ہے اداس تو سر بھی ہے بے اماںرہنے دو کچھ تو نور اندھیروں کے درمیاںHabib Jalib (1928–1993)
  6. دیکھا نہیں وہ آدمی تنہا کہوں جسےوہ آج تک ملا نہیں اپنا کہوں جسےGhalib Ahmad (b. 1928)
  7. عہد غضب ہے شور بہت قیل و قال کایہ دور ہے بہائے ادب کے زوال کاGhalib Ahmad (b. 1928)
  8. موسم بدل سکے نہ ترے انتظار کےاب کے بھی دن گزر گئے یوں ہی بہار کےGhalib Ahmad (b. 1928)
  9. جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آجاف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آجQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  10. گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دنایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دنA G Josh (1928–2007)
  11. کچھ بھی تو اپنے پاس نہیں جز متاع دلکیا اس سے بڑھ کے اور بھی کوئی ہے امتحاںIbn-e-Safi (1928–1980)
  12. دانستہ ہم نے اپنے سبھی غم چھپا لیےپوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیےAafaque Siddiqui (b. 1928)
  13. بہتر دنوں کی آس لگاتے ہوئے حبیبؔہم بہترین دن بھی گنواتے چلے گئےHabeeb Amrohvi (1928–1999)
  14. انداز فکر اہل جہاں کا جدا رہاوہ مجھ سے خوش رہے تو زمانہ خفا رہاGhani Ejaz (1929–2010)
  15. بجلی کی زد میں ایک مرا آشیاں نہیںوہ کون سی زمیں ہے جہاں آسماں نہیںGhani Ejaz (1929–2010)
  16. بجلی گری تو سوچ کے سب تار کٹ گئےیک لخت روشنی سے اندھیرے لپٹ گئےGhani Ejaz (1929–2010)
  17. لغزش سے رہنماؤں کی جب ہم سنبھل گئےمنزل قریب آئی تو رستے بدل گئےDaud Nishat (1929–1992)
  18. مانا رہ حیات میں تنہا حیات ہےمحسوس ہو رہا ہے کوئی ساتھ ساتھ ہےDaud Nishat (1929–1992)
  19. چڑھتی کہیں کہیں سے اترتی ہیں سیڑھیاںجانے کہاں کہاں سے گزرتی ہیں سیڑھیاںGhaus Khah makhah Hyderabadi (1929–2017)
  20. آندھی چلی تو نقش کف پا نہیں ملادل جس سے مل گیا وہ دوبارا نہیں ملاMustafa Zaidi (1930–1970)
  21. اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیااچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
  22. جس دن سے اپنا طرز فقیرانہ چھٹ گیاشاہی تو مل گئی دل شاہانہ چھٹ گیاMustafa Zaidi (1930–1970)
  23. کیا کیا نظر کو شوق ہوس دیکھنے میں تھادیکھا تو ہر جمال اسی آئینے میں تھاMustafa Zaidi (1930–1970)
  24. میری تباہیوں پہ کوئی مسکرا دیاگویا کسی نے کچھ تو مجھے آسرا دیاDaur Afridi (1930–1992)
  25. اک فاختہ یہ پوچھ رہی ہے ہواؤں سےکب تک چلے گا کام تمہاری دعاؤں سےBalraj Hairat (1930–1995)
  26. حساس دل تھا شرم سے نم دیدہ ہو گیاناحق میں اس کی بات پہ رنجیدہ ہو گیاBalraj Hairat (1930–1995)
  27. قرنوں پرانا وقت کو للکارتا ہوااک شہر ہے ہمارے بھی اندر بسا ہواBalraj Hairat (1930–1995)
  28. کل آسمان جیسے کوئی شعلہ زار تھاسورج کے ڈوبنے میں بھی کتنا وقار تھاBalraj Hairat (1930–1995)
  29. نادانیوں کو ایک نیا رنگ دے دیادانستہ میں نے ہاتھ تہ سنگ دے دیاBalraj Hairat (1930–1995)
  30. دنیا کی لذتوں سے مفر کر رہا ہوں میںبس سادگی سے عمر بسر کر رہا ہوں میںYas Chandpuri (b. 1930)
  31. اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیںتیرے نظر نواز اشارے ہمیں تو ہیںParkash Nath Parvez (b. 1930)
  32. گلشن سے آئے ہیں نہ بیاباں سے آئے ہیںاک ماہ وش کے حسن فروزاں کے فیض سےParkash Nath Parvez (b. 1930)
  33. سب کے لیے سوال یہ کب ہے کہ کیا نہ ہوان کو تو مجھ سے ضد ہے کہ میرا کہا نہ ہوRaees Rampuri (b. 1930)
  34. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہمیہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہمAhmad Faraz (1931–2008)
  35. اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئےبول اے ہوائے شہر کدھر جانا چاہیئےAhmad Faraz (1931–2008)
  36. اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوااب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہواAhmad Faraz (1931–2008)
  37. بیٹھے تھے لوگ پہلو بہ پہلو پیے ہوئےاک ہم تھے تیری بزم میں آنسو پیے ہوئےAhmad Faraz (1931–2008)
  38. تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئےپھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئےAhmad Faraz (1931–2008)
  39. تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوںمیں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوںAhmad Faraz (1931–2008)
  40. جو بھی درون دل ہے وہ باہر نہ آئے گااب آگہی کا زہر زباں پر نہ آئے گاAhmad Faraz (1931–2008)
  41. شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دومیں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دوAhmad Faraz (1931–2008)
  42. قامت کو تیرے سرو صنوبر نہیں کہاجیسا بھی تو تھا اس سے تو بڑھ کر نہیں کہاAhmad Faraz (1931–2008)
  43. کل ہم نے بزم یار میں کیا کیا شراب پیصحرا کی تشنگی تھی سو دریا شراب پیAhmad Faraz (1931–2008)
  44. کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرےجو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرےAhmad Faraz (1931–2008)
  45. نوحہ گروں میں دیدۂ تر بھی اسی کا تھامجھ پر یہ ظلم بار دگر بھی اسی کا تھاAhmad Faraz (1931–2008)
  46. ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میںہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میںJaun Elia (1931–2002)
  47. اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئےجو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئےJaun Elia (1931–2002)
  48. اے وصل کچھ یہاں نہ ہوا کچھ نہیں ہوااس جسم کی میں جاں نہ ہوا کچھ نہیں ہواJaun Elia (1931–2002)
  49. باہر گزار دی کبھی اندر بھی آئیں گےہم سے یہ پوچھنا کبھی ہم گھر بھی آئیں گےJaun Elia (1931–2002)
  50. دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لوجانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لوJaun Elia (1931–2002)