عہد غضب ہے شور بہت قیل و قال کا

Ghalib Ahmad (b. 1928)

عہد غضب ہے شور بہت قیل و قال کا

یہ دور ہے بہائے ادب کے زوال کا

غاروں میں چھپ کے سو رہو اے ساکنان دل

صدیوں تلک نہ آئے گا جھونکا خیال کا

ویران اپنے ہاتھ سے کی کار گاہ زیست

ذرے سے خوب کام لیا ہے کمال کا

آئے تھے اس زمین پہ جائیں گے اب کہاں

دے گا جواب کون ہمیں اس سوال کا

یہ سعیٔ رائیگاں تو نہ تھی اپنی جستجو

اے ذوالجلال ہم کو دکھا رخ جمال کا

بیٹھے ہیں سو برس سے ترے انتظار میں

آؤ بھی اب تو فاصلہ ہے ایک سال کا