Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- آج پھر ذہن کے ان بند دریچوں کے تلےدل میں سوئے ہوئے احساس نے کروٹ بدلیRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- خون کی ایک ندی اور بہے گی شایدجنگ جاری ہے تو جاری ہی رہے گی شایدYaqoob Rahi (b. 1943)
- سرخ لاوے کی طرح تپ کے نکھرنا سیکھوسوکھی دھرتی کی دراروں سے ابھرنا سیکھوYaqoob Rahi (b. 1943)
- دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گاجب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گاEhtisham Akhtar (b. 1944)
- اب کسی سے بھی کسی کا نہیں رشتہ شایدچند لمحوں کی ہے مہمان یہ دنیا شایدQamar Iqbal (1944–1988)
- اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنادل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھناQamar Iqbal (1944–1988)
- ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریںایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریںQamar Iqbal (1944–1988)
- خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوںقرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوںQamar Iqbal (1944–1988)
- سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگاموم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگاQamar Iqbal (1944–1988)
- آنکھ کیا غم میں ترے نم سی ہوئی جاتی ہےزندگی شعلہ تھی شبنم سی ہوئی جاتی ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- جب مری سمت حسیں یادوں کے پتھر برسےخیر مقدم کو چلے اشک بھی چشم تر سےZafar Sambhali (b. 1944)
- کتنا ظالم مری چاہت کا مقدر نکلامیں جسے آئنہ سمجھا تھا وہ پتھر نکلاZafar Sambhali (b. 1944)
- نشہ ہے تیری نگاہوں میں شرابوں کی طرحلوگ سرشار ہیں بے خود ہیں خرابوں کی طرحZafar Sambhali (b. 1944)
- ہم نے دیکھے تھے کبھی خواب سہانے کیا کیایاد آتے ہیں وہی گزرے زمانے کیا کیاZafar Sambhali (b. 1944)
- جب مرے نام ترے پیار کا خط آتا ہےچند لمحوں کو غم ہجر بھی مٹ جاتا ہےZafar Sambhali (b. 1944)
- بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائےوہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائےBadiuzzaman Sahar (b. 1944)
- اک نئی صبح کا پیغام لئے پھرتے ہیںہم محبت سے بھرا جام لئے پھرتے ہیںMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- حسن کے پیار کے سکھ دکھ کے ترانے گم ہیںوقت کی گود میں کیا کیا نہ خزانے گم ہیںMadhosh Bilgrami (b. 1944)
- درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیںزخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیںJaved Akhtar (b. 1945)
- دست بردار اگر آپ غضب سے ہو جائیںہر ستم بھول کے ہم آپ کے اب سے ہو جائیںJaved Akhtar (b. 1945)
- ساری حیرت ہے مری ساری ادا اس کی ہےبے گناہی ہے مری اور سزا اس کی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- ہم نے ڈھونڈیں بھی تو ڈھونڈیں ہیں سہارے کیسےان سرابوں پہ کوئی عمر گزارے کیسےJaved Akhtar (b. 1945)
- اپنے ہونے سے بھی انکار کئے جاتے ہیںہم کہ رستہ ترا ہموار کئے جاتے ہیںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اپنے ہونے کی اہانت نہیں ہم کر سکتےسو تری یاد سے غفلت نہیں ہم کر سکتےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- برگ بھر بار محبت کا اٹھایا کب تھاتم نے سینے میں کوئی درد بسایا کب تھاJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جب بھی موسم ہنر حرف و بیاں لے جائےیوں لگے جسم سے جیسے کوئی جاں لے جائےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- جسم کے خول سے نکلوں تو قضا کو دیکھوںبت کو رستے سے ہٹاؤں تو خدا کو دیکھوںJaleel 'Aali' (b. 1945)
- راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہےسر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہےجانے کس حسن کی دیوانگی رکھی ہوئی ہےJaleel 'Aali' (b. 1945)
- اس کو دیکھوں تو کبھی میں بھی کہ وہ کیسی ہےمیرے پیچھے جو صباؔ گھر میں مرے رہتی ہےSaba Ikram (b. 1945)
- دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھےدکھ تو پہلے بھی تھے پر اتنے گھنیرے کب تھےSaba Ikram (b. 1945)
- وقت کے دشت میں چونکے ہوئے آہو کی طرحہم پریشان ازل سے رہے خوشبو کی طرحSaba Ikram (b. 1945)
- درد کی دھوپ سے چہرے کو نکھر جانا تھاآئنہ دیکھنے والے تجھے مر جانا تھاNaseer Turabi (1945–2021)
- دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتےیہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتےNaseer Turabi (1945–2021)
- کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میںرات مہکی ہے مگر جی ہے نڈھال ایسے میںNaseer Turabi (1945–2021)
- مثل صحرا ہے رفاقت کا چمن بھی اب کےجل بجھا اپنے ہی شعلوں میں بدن بھی اب کےNaseer Turabi (1945–2021)
- مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہےزندگی روز نئے زخم کی گہرائی ہےNaseer Turabi (1945–2021)
- میں بھی اے کاش کبھی موج صبا ہو جاؤںاس توقع پہ کہ خود سے بھی جدا ہو جاؤںNaseer Turabi (1945–2021)
- رات اک رنگ ہے اک راگ ہے اک خوشبو ہےمہرباں رات مرے پاس چلی آئے گیFahmida Riaz (1946–2018)
- یہ تو برزخ ہے یہاں وقت کی ایجاد کہاںاک برس تھا کہ مہینہ ہمیں اب یاد کہاںFahmida Riaz (1946–2018)
- میں جہاں جاؤں مرے ساتھ چلے سناٹامیری آنکھوں میں لگاتار جلے سناٹاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- آج پھر درد اٹھا دل کے نہاں خانے میںآج پھر لوگ ستانے کو چلے آئیں گےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- آج پھر گھات میں بیٹھا ہے سمندر کا سکوتہم کو اک دوسرے سے دور ہی رہنا ہوگاChandrabhan Khayal (b. 1946)
- جنگ دھرتی پہ ستاروں کے لیے جاری ہےحیف صد حیف کہ ہر شے پہ جنوں طاری ہےChandrabhan Khayal (b. 1946)
- میری پسلی میں جما ہے کئی شہروں کا سکوتجیسے سویا ہو کسی غار میں تہذیب کا بھوتChandrabhan Khayal (b. 1946)
- ہاتھ ہاتھوں میں نہ دے بات ہی کرتا جائےہے بہت لمبا سفر یوں تو نہ ڈرتا جائےIftikhar Naseem (1946–2011)
- شب کے غم دن کے عذابوں سے الگ رکھتا ہوںساری تعبیروں کو خوابوں سے الگ رکھتا ہوںZafar Sahbai (b. 1946)
- عکس زخموں کا جبیں پر نہیں آنے دیتامیں خراش اپنے یقیں پر نہیں آنے دیتاZafar Sahbai (b. 1946)
- میں تمہیں پھول کہوں تم مجھے خوشبو دینامیرے بازو میں ذرا پیار سے بازو دیناZafar Sahbai (b. 1946)
- اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسادل کا عالم ہے ترے بعد خلاؤں جیساMohsin Naqvi (1947–1996)