وقت کے دشت میں چونکے ہوئے آہو کی طرح

Saba Ikram (b. 1945)

وقت کے دشت میں چونکے ہوئے آہو کی طرح

ہم پریشان ازل سے رہے خوشبو کی طرح

بند دروازوں کے اندر جو ہوئی تھی اک بات

شہر میں پھیل گئی پھول کی خوشبو کی طرح

شب کی تنہائی میں نغمہ سا بکھر جاتا ہے

سوکھے پتوں میں اک آواز ہے گھنگھرو کی طرح

اک حسیں جسم کو آغوش میں بھرنے کے لئے

آرزو پھیلی ہوئی ہے کسی بازو کی طرح

ہجر کا درد کئی صدیوں سے بیٹھا ہے صباؔ

دل کے پیپل کی گھنی چھاؤں میں سادھو کی طرح