Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Mahzuf

رمل مثمن محذوف
Poet
Meter
Clear
  1. دیکھیے مت چشمِ کم سے سوئے ضبط افسردگاںجوں صدف پُر دُر ہیں دنداں در جگر افشردگاںMirza Ghalib (1797–1869)
  2. ذوقِ خود داری خرابِ وحشتِ تسخیر ہےآئینہ خانہ مری تمثال کو زنجیر ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  3. صبح سے معلوم آثارِ ظہورِ شام ہےغافلاں آغازِ کار آئینۂ انجام ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  4. ضبط سے جوں مردمک اسپند اقامت گیر ہےمجمرِ بزمِ فسردن دیدۂ نخچیر ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  5. کاوشِ دزدِ حنا پوشیدہ افسوں ہے مجھےناخنِ انگشتِ خوباں لعلِ واژوں ہے مجھےMirza Ghalib (1797–1869)
  6. کس کی برقِ شوخیٔ رفتار کا دلدادہ ہےذرّہ ذرّہ اس جہاں کا اضطراب آمادہ ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  7. کُو بیابانِ تمنا و کجا جولانِ عجزآبلے پا کے ہیں یاں رفتار کو دندانِ عجزMirza Ghalib (1797–1869)
  8. گر چہ ہے یک بیضۂ طاؤس آسا تنگ دلہے چمن سرمایۂ بالیدنِ صد رنگ دلMirza Ghalib (1797–1869)
  9. محوِ آرامیدگی سامانِ بے تابی کرےچشم میں توڑے نمک داں تا شکر خوابی کرےMirza Ghalib (1797–1869)
  10. مرگِ شیریں ہو گئی تھی کوہ کن کی فکر میںتھا حریرِ سنگ سے قطعِ کفن کی فکر میںMirza Ghalib (1797–1869)
  11. نازِ لطفِ عشق با وصفِ توانائی عبثرنگ ہے سنگِ محک دعوائے مینائی عبثMirza Ghalib (1797–1869)
  12. وردِ اسمِ حق سے دیدارِ صنم حاصل ہوارشتۂ تسبیح تارِ جادۂ منزل ہواMirza Ghalib (1797–1869)
  13. وہ نہا کر آبِ گل سے سایہ گل کے تلےبال کس گرمی سے سِکھلاتا تھا سنبل کے تلےMirza Ghalib (1797–1869)
  14. ہم سے خوبانِ جہاں پہلو تہی کرتے رہےہم ہمیشہ مشقِ از خود رفتگی کرتے رہےMirza Ghalib (1797–1869)
  15. ہوں بہ وحشت انتظار آوارۂ دشتِ خیالاک سفیدی مارتی ہے دور سے چشمِ غزالMirza Ghalib (1797–1869)
  16. ہے بہاراں میں خزاں پرور خیال عندلیبرنگِ گل آتش کدہ ہے زیرِ بالِ عندلیبMirza Ghalib (1797–1869)
  17. ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفسیوں کہا آتی نہیں اب کیوں صدائے عندلیبMirza Ghalib (1797–1869)
  18. سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑیمجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوےMirza Ghalib (1797–1869)
  19. گھستے گھستے پانو میں زنجیر آدھی رہ گئیمر گئے پر قبر کی تعمیر آدھی رہ گئیMirza Ghalib (1797–1869)
  20. بس کہ حیرت سے ز پا افتادۂ زنہار ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  21. سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیاآگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیاMomin Khan Momin (1800–1852)
  22. ابتدا سے ہم ضعیف و ناتواں پیدا ہوئےاڑ گیا جب رنگ رخ سے استخواں پیدا ہوئےMir Anees (1803–1874)
  23. خود نوید زندگی لائی قضا میرے لیےشمع کشتہ ہوں فنا میں ہے بقا میرے لیےMir Anees (1803–1874)
  24. سنبلِ تر ہے پریشاں زلفِ اکبر دیکھ کرکٹ گیا ہے ماہِ تاباں روئے انور دیکھ کرMir Anees (1803–1874)
  25. آج ہی کیا آگ ہے، سرگرمِ کیں تو کب نہ تھاشمع ساں مجبورِ خوئے آتشیں تو کب نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  26. اُس وفا کی مجھ سے پھر امیدواری ہے عبثدل فریبی کی لگاوٹ، یہ تمہاری ہے عبثMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  27. روزِ غم میں کیا قیامت ہے شبِ عشرت کی یاداشکِ خوں سے آ گئیں رنگینیاں صحبت کی یادMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  28. میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھاہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  29. وہ پری وش عشق کے افسوں سے مائل ہو گیامفت میں مشہور میں لوگوں میں عامل ہو گیاMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  30. دور رہنا ہم سے کب تک اور بے گانے کے پاسہیں قریبِ مرگ، کیا اب بھی نہیں آنے کے پاس؟Mustafa Khan Shefta (1809–1869)
  31. شیفتہ آیا ہوں میں کس کا تماشا دیکھ کررہ گئے حیران مجھ کو سب خود آرا دیکھ کرMustafa Khan Shefta (1809–1869)
  32. آتش باغ ایسے بھڑکی ہے کہ جلتی ہے ہواکوچۂ گل سے دھواں ہو کر نکلتی ہے ہواImdad Ali Bahr (1810–1878)
  33. تارے گنتے رات کٹتی ہی نہیں آتی ہے نینددل کو تڑپاتا ہے ہجر آنکھوں کو ترساتی ہے نیندImdad Ali Bahr (1810–1878)
  34. خوب رو سب ہیں مگر حورا شمائل ایک ہےاور مہ پارہ ہیں لیکن ماہ کامل ایک ہےImdad Ali Bahr (1810–1878)
  35. میں سیہ رو اپنے خالق سے جو نعمت مانگتااپنا منہ دھونے کو پہلے آب خجلت مانگتاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  36. میں گلا تم سے کروں اے یار کس کس بات کایہ کہانی دن کی ہو جائے نہ قصہ رات کاImdad Ali Bahr (1810–1878)
  37. تھے نوالے موتیوں کے جن کے کھانے کے لیےپھرتے ہیں محتاج وہ اک دانے دانے کے لیےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  38. حسن پر زیبا نہیں یہ لن ترانی آپ کیچار دن کی چاندنی ہے نوجوانی آپ کیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  39. آپ تو منہ پھیر کر کہتے ہیں آنے کے لیےوصل کا وعدہ ذرا آنکھیں ملا کر کیجیےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  40. آ گیا جوہرؔ عجب الٹا زمانہ کیا کہیںدوست وہ کرتے ہیں باتیں جو عدو کرتے نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  41. خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جوابدل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  42. چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنیتیرے خاطر منہ کو دکھلاتی ہے تارا چاندنیPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  43. دوزخ و جنت ہیں اب میری نظر کے سامنےگھر رقیبوں نے بنایا اس کے گھر کے سامنےPandit Daya Shankar Naseem Lakhnawi (1811–1845)
  44. حال پوشیدہ کھلا سامان عبرت دیکھ کرپڑھ لیا قسمت کا لکھا لوح تربت دیکھ کرMunir Shikohabadi (1814–1880)
  45. راہ کر کے اس بت گمراہ نے دھوکا دیاگر پڑے اندھے کنوئیں میں چاہ نے دھوکا دیاMunir Shikohabadi (1814–1880)
  46. ہاتھ ملواتی ہیں حوروں کو تمہاری چوڑیاںپیاری پیاری ہے کلائی پیاری پیاری چوڑیاںMunir Shikohabadi (1814–1880)
  47. آج مسجد میں نظر آتا تو ہے میکش مگرمطلب اس کا بیچنا ہے شیخ کی دستار کاMaatam Fazl Mohammad (1815–1897)
  48. دل میں اپنے آرزو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںدو جہاں کی جستجو سب کچھ ہے اور پھر کچھ نہیںGeorge Puech Shor (1823–1894)
  49. آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہارروتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  50. مجھ سے لاکھوں خاک کے پتلے بنا سکتا ہے تومیں کہاں سے ایک تیرا سا خدا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)