ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس

Mirza Ghalib (1797–1869)

ایک اہلِ درد نے سنسان جو دیکھا قفس

یوں کہا آتی نہیں اب کیوں صدائے عندلیب

بال و پر دو چار دکھلا کر کہا صیّاد نے

یہ نشانی رہ گئی ہے اب بجائے عندلیب