آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہار

Taashshuq Lakhnavi (1824–1892)

آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہار

روتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئے