Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- مجھ کو مجبور سرکشی کہیےآپ اندھیرے کو روشنی کہیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- جب رخ حسن سے نقاب اٹھابن کے ہر ذرہ آفتاب اٹھاEhsan Danish (1914–1982)
- ان ہزاروں میں اور آپ، یہ کیا؟آپ، جو ایک تھے ہزاروں میںIbraheem Hosh (1918–1988)
- ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیںچاک اب دامن حواس نہیںZabih Allahabadi (1918–1987)
- منزل یار بے نشاں بھی نہیںدل ہو غافل تو رازداں بھی نہیںRaees Niyazi (1920–1994)
- یہ زمیں کس قدر سجائی گئیزندگی کی تڑپ بڑھائی گئیSahir Ludhianvi (1921–1980)
- کوئی پورا جو مدعا نہ ہوازندگی کے لئے برا نہ ہواKaleem Saronji (b. 1921)
- بے سہاروں کا انتظام کرویعنی اک اور قتل عام کروHafeez Merathi (1922–2000)
- دل ہے بیتاب التجا کے لئےچھیڑ دو بات ابتدا کے لئےOm Parkash Bajaj (b. 1922)
- ہائے کتنا لطیف ہے وہ غمجس نے بخشا ہے زندگی کا شعورChandra Parkash Jauhar Bijnauri (1923–1995)
- خلش و سوز دل فگار ہی دیدل میں شمشیر آب دار ہی دیHabib Tanvir (1923–2009)
- ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھیاس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھیAda Jafri (1924–2015)
- خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئیابتدا رنج کی کہاں سے ہوئیAda Jafri (1924–2015)
- خود حجابوں سا خود جمال سا تھادل کا عالم بھی بے مثال سا تھاAda Jafri (1924–2015)
- غم دیتے ہیں تو اضطراب نہ دےزندگی دے مگر عذاب نہ دےGauhar Usmani (1924–2004)
- اب تو جینے کی کوئی راہ نہیںاپنے ہی شہر میں پناہ نہیںUmar Quraishi (1924–2010)
- آج تو بے سبب اداس ہے جیعشق ہوتا تو کوئی بات بھی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
- دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھیکوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھیNasir Kazmi (1925–1972)
- کل جنہیں زندگی تھی راس بہتآج دیکھا انہیں اداس بہتNasir Kazmi (1925–1972)
- نیت شوق بھر نہ جائے کہیںتو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیںNasir Kazmi (1925–1972)
- تیری مجبوریاں درست مگرتو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کرNasir Kazmi (1925–1972)
- خود ہی یہ درد سر قبول کیاہر عذاب سفر قبول کیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
- رونا زار و قطار چھوڑ دیاہم نے یہ کاروبار چھوڑ دیاOm Krishn Rahat (b. 1925)
- کون اب ان کی انجمن میں نہیںچپ ہیں جیسے زباں دہن میں نہیںOm Krishn Rahat (b. 1925)
- درد کب دل میں مہرباں نہ رہاہاں مگر قابل بیاں نہ رہاKaleem Aajiz (1926–2015)
- کون مرتا ہے زندگی کے لیےجی رہا ہوں تری خوشی کے لیےSaadat Nazeer (b. 1926)
- ایک پتھر کہ دست یار میں ہےپھول بننے کے انتظار میں ہےQamar Jameel (1927–2000)
- پو پھٹی صبح ہوئی شام ہوئیزندگی بس یوں ہی تمام ہوئیB S Jain Jauhar (b. 1927)
- اتنے خاموش بھی رہا نہ کروغم جدائی میں یوں کیا نہ کروMunir Niazi (1928–2006)
- خلش ہجر دائمی نہ گئیتیرے رخ سے یہ بے رخی نہ گئیMunir Niazi (1928–2006)
- کم پرانا بہت نیا تھا فراقاک عجب رمز آشنا تھا فراقHabib Jalib (1928–1993)
- میرؔ و غالبؔ بنے یگانہؔ بنےآدمی اے خدا خدا نہ بنےHabib Jalib (1928–1993)
- قوم کی بہتری کا چھوڑ خیالفکر تعمیر ملک دل سے نکالHabib Jalib (1928–1993)
- ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔدیر تک ان کا انتظار رہاHabib Jalib (1928–1993)
- لاکھ کرتا رہے طواف حرمدل بدستور ہے خود ایک صنمGhalib Ahmad (b. 1928)
- اپنے ماضی کا آئینہ لے کرجانے کب سے اداس بیٹھا ہوںKailash Mahir (b. 1928)
- عمر تھوڑی ہے اور کام بہتزندگی بھی ہے تیز گام بہتQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- سر راہے کبھی کبھار سہیرس بھری اک نگاہ یار سہیA G Josh (1928–2007)
- موت بھی میری دسترس میں نہیںاور جینا بھی اپنے بس میں نہیںA G Josh (1928–2007)
- جب ترے شہر و کوچہ و در سےزندگی سرگراں رہی تو نےDaur Afridi (1930–1992)
- میری ہر اک نظر نے سجدہ کیارونق حسن و جان روئے نگارDaur Afridi (1930–1992)
- کسی نشے سے بیشتر تو نہ تھارشتۂ غم بھی معتبر تو نہ تھاBalraj Hairat (1930–1995)
- کیا شب غم مری بسر نہ ہوئیتم نہ آئے تو کیا سحر نہ ہوئیLateef Nazi (b. 1930)
- اول اول کی دوستی ہے ابھیاک غزل ہے کہ ہو رہی ہے ابھیAhmad Faraz (1931–2008)
- جان سے عشق اور جہاں سے گریزدوستوں نے کیا کہاں سے گریزAhmad Faraz (1931–2008)
- دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیںدل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیںAhmad Faraz (1931–2008)
- دل بدن کا شریک حال کہاںہجر پھر ہجر ہے وصال کہاںAhmad Faraz (1931–2008)
- زندگی سے یہی گلہ ہے مجھےتو بہت دیر سے ملا ہے مجھےAhmad Faraz (1931–2008)
- لے اڑا پھر کوئی خیال ہمیںساقیا ساقیا سنبھال ہمیںAhmad Faraz (1931–2008)
- آج بھی تشنگی کی قسمت میںسم قاتل ہے سلسبیل نہیںJaun Elia (1931–2002)