لاکھ کرتا رہے طواف حرم

Ghalib Ahmad (b. 1928)

لاکھ کرتا رہے طواف حرم

دل بدستور ہے خود ایک صنم

جن رفیقوں کے غم کو اپنایا

وہ بھی آئے برائے پرسش غم

ظلمت شب کی آنکھ کا تارا

میرا دل جس پہ دن کے لاکھ ستم

روشنی کی رمق نہیں دل میں

تیرے ماتھے کی چاندنی کی قسم

منتشر ہو رہا ہے ذوق نظر

رفعت آرزو کہاں ہیں ہم