کون مرتا ہے زندگی کے لیے

Saadat Nazeer (b. 1926)

کون مرتا ہے زندگی کے لیے

جی رہا ہوں تری خوشی کے لیے

یہ محبت نہیں تو پھر کیا ہے

آدمی تڑپے آدمی کے لیے

دیکھیے کیا ہے شام غم کا حال

کوئی بے تاب ہے کسی کے لیے

کبھی ہم نے جو خواب دیکھا تھا

دل مچلتا ہے پھر اسی کے لیے

غم جاناں غم جہاں غم ذات

لاکھ غم ایک آدمی کے لیے

تھی کسے انتظار کی مہلت

پھر بھی تڑپا ہے دل کسی کے لیے

ہے تقاضائے زندگی کہ نظیرؔ

غم اٹھاتے ہیں سب خوشی کے لئے