ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیں

Zabih Allahabadi (1918–1987)

ان کو پھر دیکھنے کی آس نہیں

چاک اب دامن حواس نہیں

منزل غم میں ساتھ ہے امید

میرا چہرہ ذرا اداس نہیں

پھر قفس چھوڑ کر کہاں جائیں

جب ہوائے چمن ہی راس نہیں

کیا امید وفا کرے کوئی

ان کو اپنی زباں کا پاس نہیں

آزماتا ہے ظرف کو ساقی

رند پی کر بھی بد حواس نہیں

کیا نرالی ہے حشر کی دنیا

ایک سے ایک روشناس نہیں

تنگ خود سے میں آ چکا ہوں ذبیحؔ

اب کوئی شے بھی آس پاس نہیں