Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf
خفیف مسدس مخبون محذوف- عید کا چاند تم نے دیکھ لیاچاند کی عید ہو گئی ہوگیIdris Azad
- حسن صورت میں گرچہ بود نہیںپر کہاں عشق کی نمود نہیںکشن کمار وقار
- رکھو خدمت میں مجھ سے کام تو لوبات کرتے نہیں سلام تو لورند لکھنوی
- قبر پر ہوویں دو نہ چار درختایک کافی ہے سایہ دار درخترند لکھنوی
- بے وفا تجھ سے کچھ گلا ہی نہیںتو تو گویا کہ آشنا ہی نہیںمیر اثر
- تیرے آنے کا احتمال رہامرتے مرتے یہی خیال رہامیر اثر
- تیرے وعدوں کا اعتبار کسےگو کہ ہو تاب انتظار کسےمیر اثر
- جب کہ ایدھر تری نگاہ پڑیمیرے ہی دل پہ میری آہ پڑیمیر اثر
- دیکھ کر دل کو پیچ و تاب کے بیچآ پڑا مفت میں عذاب کے بیچمیر اثر
- زیست ہونی تعجبات ہے ابمر ہی جانا بس ایک بات ہے ابمیر اثر
- کہیں ظاہر یہ تیری چاہ نہ کیمرتے مرتے بھی ہم نے آہ نہ کیمیر اثر
- ہم ہیں بے دل دل اپنے پاس نہیںآہ اس کا بھی تجھ کو پاس نہیںمیر اثر
- حق مجھے باطل آشنا نہ کرےمیں بتوں سے پھروں خدا نہ کرےانعام اللہ خاں یقین
- میں ہوا زینت مکان قفسدود افغاں ہے سائبان قفسقربان علی سالک بیگ
- دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہےمرحبا پرورش علی ہی تو ہےسخی لکھنوی
- قبر میں اب کسی کا دھیان نہیںسچ ہے جب جی نہیں جہان نہیںسخی لکھنوی
- گفتگو ہو دبی زبان بہتہیں لگائے رقیب کان بہتسخی لکھنوی
- داغ دل ہم کو یاد آنے لگےلوگ اپنے دیئے جلانے لگےباقی صدیقی
- دور تک روشنی ہے غور سے دیکھموت بھی زندگی ہے غور سے دیکھاختر انصاری اکبرآبادی
- کون سنتا ہے صرف ذات کی باتلب پہ ہے میرے کائنات کی باتاختر انصاری اکبرآبادی
- نیچی نظروں کے وار آنے لگےلو بس اب جان و دل ٹھکانے لگےمیر مہدی مجروح
- خوں بہانے کے ہیں ہزار طریقرنگ لانے کے ہیں ہزار طریقبیان میرٹھی
- دل کوں دل دار کے نیاز کرےتن کوں آرام و سکھ سوں باز کرےداؤد اورنگ آبادی
- مست ہوں مست ہوں خراب خرابساقیا ساقیا شراب شرابداؤد اورنگ آبادی
- آپ آئے تھے یاں جفا کے لئےجائیے بھی کہیں خدا کے لئےمرزا مسیتابیگ منتہی
- وسعت بحر عشق کیا کہیےابتدا ہو تو انتہا کہیےسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- وہ محبت وہ دل وہ خو ہی نہیںواقعہ ہے کہ تو وہ تو ہی نہیںمنیر بھوپالی
- ذکر دشمن ہے ناگوار کسےتم سناتے ہو بار بار کسےنسیم بھرتپوری
- دل اب اس دل شکن کے پاس کہاںچیل کے گھونسلے میں ماس کہاںبیاں احسن اللہ خان
- مت ستا مجھ کو آن آن عزیزٹک کہا بھی کسی کا مان عزیزبیاں احسن اللہ خان
- نہ فقط یار بن شراب ہے تلخعیش و آرام و خورد و خواب ہے تلخبیاں احسن اللہ خان
- کیا ہیں شیدائے قد یار درختہیں جو شبنم سے اشک بار درختگویا فقیر محمد
- تم بھی ہو خنجر خوشاب بھی ہےاور یہ خانماں خراب بھی ہےحسن بریلوی
- خامشی کو صدا میں رکھا گیاایک جادو ہوا میں رکھا گیاLiaqat Jafri
- لاکھ کوشش تو کی مگر نہ ہوئیزندگی چین سے بسر نہ ہوئیDard Sironji
- میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوایہ تو پتھر ہوا خدا نہ ہواPanna Lal Noor
- پڑ گئی آپ پر نظر ہی تو ہےاک خطا ہو گئی بشر ہی تو ہےQadr Bilgrami
- راہ میں یوں تو مرحلے ہیں بہتہم سفر پھر بھی آ گئے ہیں بہتBalbir Rathi
- غم بھی اتنا نہیں کہ تم سے کہیںاور چارہ نہیں کہ تم سے کہیںEjaz Obaid
- غمزۂ چشم شرمسار کہاںسر تو حاضر ہے تیغ یار کہاںمیر سوز
- کب دیا یہ جلا ہوا کے لیےعشق ہوتا نہیں فنا کے لیےSabeenSaif
- یاد تیری دلا رہے ہیں مجھےچاند تارے جلا رہے ہیں مجھےSabeenSaif
- اس نے مانگا جو دل دیے ہی بنیجو نہ کرنا تھا وہ کئے ہی بنیشرف مجددی
- دیکھ لو اک نظر میں کچھ بھی نہیںسچ کہا ہے بشر میں کچھ بھی نہیںشرف مجددی
- میں برا ہی سہی بھلا نہ سہیپر تری کون سی جفا نہ سہیعیش دہلوی
- دوست جب دل سا آشنا ہی نہیںاب ہمیں غیر کا گلہ ہی نہیںعیش دہلوی
- حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئیکیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئیاشرف علی فغاں
- جو تصور سے ماورا نہ ہواوہ تو بندہ ہوا خدا نہ ہوااقبال سہیل
- جو تھکاوٹ پہ مبنی نیند نہیںمیں سمجھتا ہوں اچھی نیند نہیںEhsanul Haq Mazhar
- اب وہ پہلے سے مہر و ماہ نہیںکوئی آسودۂ نگاہ نہیںEhsas Muradabadi