میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوا

Panna Lal Noor

میرے غم کا اثر ذرا نہ ہوا

یہ تو پتھر ہوا خدا نہ ہوا

دیکھ لو آج آ کے بسمل کو

کون جانے یہ کل ہوا نہ ہوا

ترک الفت کا ایک ہی غم ہے

یہ ارادہ بھی دیر پا نہ ہوا

ترچھی چتون اتر گئی دل میں

تیر کج تھا مگر خطا نہ ہوا

جذبۂ شوق ہو گیا دشمن

مجھ سے اظہار مدعا نہ ہوا

وقف گردش ہوں صورت پرکار

دور مرکز کا فاصلہ نہ ہوا

لوح ہستی سے کیوں مٹاتے ہو

میں کبھی حرف مدعا نہ ہوا