Poetry
Bahr-e Hindi Mutaqarib Musaddas Muza'af
بحرِ ہندی/ متقارب مسدس مضاعف- جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میراصبح کے بھیس میں نکلا ہے گریباں میراSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- تیرا چہرہ صبح کا تارا لگتا ہےصبح کا تارا کتنا پیارا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہےتیرے آگے چاند پرانا لگتا ہےKaif Bhopali (1917–1991)
- پیار دلار کے سائے سائے چلا کروجلتے لوگو کچھ تو اپنا بھلا کروQateel Shifai (1919–2001)
- رنگ جدا آہنگ جدا مہکار جداپہلے سے اب لگتا ہے گلزار جداQateel Shifai (1919–2001)
- صدیوں سے انسان یہ سنتا آیا ہےدکھ کی دھوپ کے آگے سکھ کا سایا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ایک عجب شہزادہ میرے باغوں کادیکھو آیا موسم سرخ چراغوں کاQamar Jameel (1927–2000)
- جاگنے والو تا بہ سحر خاموش رہوکل کیا ہوگا کس کو خبر خاموش رہوHabib Jalib (1928–1993)
- تیرے لئے میں کیا کیا صدمے سہتا ہوںسنگینوں کے راج میں بھی سچ کہتا ہوںHabib Jalib (1928–1993)
- جینے کا حق سامراج نے چھین لیااٹھو مرنے کا حق استعمال کروHabib Jalib (1928–1993)
- جاناں دل کا شہر نگر افسوس کا ہےتیرا میرا سارا سفر افسوس کا ہےAhmad Faraz (1931–2008)
- پھول نے ٹہنی سے اڑنے کی کوشش کیاک طائر کا دل رکھنے کی کوشش کیGulzar (b. 1934)
- خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میںایک پرانا خط کھولا انجانے میںGulzar (b. 1934)
- تنہائی کو گھر سے رخصت کر تو دوسوچو کس کے گھر جائے گی تنہائیZafar Gorakhpuri (1935–2017)
- ایسے ہجر کے موسم کب کب آتے ہیںتیرے علاوہ یاد ہمیں سب آتے ہیںShahryar (1936–2012)
- خوں پتھر پہ سرک آیاگہرا نیلا رنگ ہوا میں ڈوب گیاAdil Mansuri (1936–2008)
- سائے کی پسلی سے نکلا ہے جسم ترابوسوں کا گیلا پن لفظوں کے ہونٹوں پرAdil Mansuri (1936–2008)
- وہ آنکھوں پر پٹی باندھے پھرتی ہےدیواروں کا چونا چاٹتی رہتی ہےAdil Mansuri (1936–2008)
- چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہےیہ چہرہ کتنا جانا پہچانا ہےParveen Fana Syed (1936–2010)
- بچے بھی اب دیکھ کے اس کو ہنستے ہیںاس کے منہ پر رنگ برنگے سائے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- زندہ باد اے دشت کے منظر زندہ بادشہر میں ہے جلتا ہوا ہر گھر زندہ بادUnwan Chishti (1937–2004)
- بندرابن کے کرشن کنھیا اللہ ہوبنسی رادھا گیتا گیا اللہ ہوNida Fazli (1938–2016)
- کالا امبر پیلی دھرتی یا اللہہا ہا ہے ہے ہی ہی ہی ہی یا اللہNida Fazli (1938–2016)
- جامن کی اک شاخ پہ بیٹھی اک چڑیاہرے ہرے پتوں میں چھپ کر گاتی ہےNida Fazli (1938–2016)
- ہونٹوں میں سچ بات دبا لیتے ہیں لوگاپنے من کا پاپ چھپا لیتے ہیں لوگZafar Kaleem (b. 1938)
- لفظوں سے تصویر بناتا جاؤں میںہنستے گاتے رنگ دکھاتا جاؤں میںZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- اپنے سائے کو اتنا سمجھانے دےمجھ تک میرے حصے کی دھوپ آنے دےWaseem Barelvi (b. 1940)
- بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیںایک سے جانے ہم کتنے ہو جاتے ہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- دور سے ہی بس دریا دریا لگتا ہےڈوب کے دیکھو کتنا پیاسا لگتا ہےWaseem Barelvi (b. 1940)
- کل بھی میری پیاس پہ دریا ہنستے تھےآج بھی میرے درد کا درماں کوئی نہیںWaseem Barelvi (b. 1940)
- جھوٹ کے آگے پیچھے دریا چلتے ہیںسچ بولا تو پیاسا مارا جائے گاWaseem Barelvi (b. 1940)
- وہ فرات کے ساحل پر ہوں یا کسی اور کنارے پرسارے لشکر ایک طرح کے ہوتے ہیںIftikhar Arif (b. 1943)
- جاڑوں بھر کیوں میرے آنگن میں سایہ تھاسورج نے کس چھت پر خیمہ لگوایا تھاRafia Shabnam Abidi (b. 1943)
- سچ یہ ہے بیکار ہمیں غم ہوتا ہےجو چاہا تھا دنیا میں کم ہوتا ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- سوکھی ٹہنی تنہا چڑیا پھیکا چاندآنکھوں کے صحرا میں ایک نمی کا چاندJaved Akhtar (b. 1945)
- غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہےدنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہےJaved Akhtar (b. 1945)
- پتھریلے کہسار کے گاتے چشموں میںگونج رہی ہے ایک عورت کی نرم ہنسیFahmida Riaz (1946–2018)
- قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیںاک آنسو اس شخص کا جو بیگانہ ہےFahmida Riaz (1946–2018)
- اپنا سارا بوجھ زمیں پر پھینک دیاتجھ کو خط لکھا اور لکھ کر پھینک دیاIftikhar Naseem (1946–2011)
- کیسا چکر کاٹ کے آنا پڑتا ہےتیرے میرے بیچ زمانہ پڑتا ہےHafeez Momin (b. 1948)
- رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہےسوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہےRahat Indori (1950–2020)
- سب کو رسوا باری باری کیا کروہر موسم میں فتوے جاری کیا کروRahat Indori (1950–2020)
- شام نے جب پلکوں پہ آتش دان لیاکچھ یادوں نے چٹکی میں لوبان لیاRahat Indori (1950–2020)
- رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہےآگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہےZafar Zaidi (1950–1983)
- ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گےہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گےP P Srivastava Rind (b. 1950)
- ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہےگھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپگھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- موسم سوکھے پیڑ گرانے والا تھاکسی کسی میں پھول بھی آنے والا تھاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھاچاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھاParveen Shakir (1952–1994)
- لڑکی سر کو جھکائے بیٹھیکافی کے پیالے میں چمچہ ہلا رہی ہےParveen Shakir (1952–1994)