رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے
Zafar Zaidi (1950–1983)رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے
آگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہے
کمرے کے اندر تو گھٹن ہے الجھن ہے
باہر جھانک کے دیکھیں موسم کیسا ہے
سارے رشتے توڑ کے ہم تو آئے تھے
پھر یہ بیچ ہمارے جھگڑا کیسا ہے